جماعت اسلامی نے دھرنوں کا اعلان کر دیا

کراچی(آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے سخت گرمی میں شہر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف پیر7جون سے شہر بھر میں دھرنے دیے جائیں گے اورہفتہ 12جون کو کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کا گھیراؤ کریں گے،کے الیکٹرک کے سرکاری سپورٹرز اور سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے گا،،وفاقی حکومت اور گورنر نے کے الیکٹرک کی مزید سرپرستی کرتے ہوئے 200 میگاواٹ بجلی فراہم کردی، گورنر سندھ بتائیں کہ کے الیکٹرک کے کتنے پلانٹ چل رہے ہیں؟، تمام تر دعووں کے باوجود15مارچ سے شروع ہونے والا 900

میگاواٹ کا بن قاسم پلانٹ تھری اب تک کیوں شروع نہ ہوسکا، 1400 میگاواٹ بجلی NTDC کی طرف سے کس معاہدے کے تحت بجلی فراہم کی جارہی ہے؟، کراچی میں اب بھی 7 گھنٹے اعلانیہ اور 5 سے 6 گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے،حکومت اور نیپرا کی براہ راست ذمہ داری ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف نوٹس لے، افسوس کی بات ہے کہ نیپرا نے ایک بار پھرکے الیکٹرک کو ریلیف دیا ہے اور ٹیرف میں اضافے کی اجازت دی جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کے باہرکے الیکٹرک کی جانب سے سخت گرمی،کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باوجود شہر بھر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے گورنر ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی سکریٹریز کراچی یونس بارائی اور عبد الرزاق خان،کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے چیئرمین عمران شاہد،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،حاجی ناظم ایف جی ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ گزشتہ 15 سال کے دوران کے الیکٹرک نے اپنے ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں صرف 11فیصد کا اضافہ کیا ہے،کے ای ایس سی کی نجکاری اور کے الیکٹرک کو سسٹم سنبھالتے ہوئے16سال کا طویل عرصہ گزر گیامگر کراچی سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ ہوسکا،کے الیکٹرک نے شہریوں کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کردیا ہے،شدید گرمی اور کرونا وباء کے دوران بھی رات 1بجے سے لیکر صبج 5 بجے تک کراچی شہر کی بجلی بند کردی جاتی ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں دن بھر 10سے 12گھنٹے بجلی بندکردی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کے ا ی ایس سی کی نجکاری اس لیے کی گئی تھی کہ بجلی کی پیداوار میں خودانحصاری حاصل کی جائے گی،کے الیکٹرک کا سارا دارومدار NTDCاورIPPsسے حاصل کردہ بجلی پر ہے،حالیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ اپنے فرنس آئل کے پلانٹس نہ چلاناہے،سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ متعدد بار کراچی سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے کے الیکٹرک اور نیپرا کو واضح احکامات جاری کرچکی ہیں،اب تک کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ ختم کی اور نہ ہی نیپرا کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آج پانی پر وہ لوگ سیاست کررہے ہیں جنہوں نے نعمت اللہ خان کے بعد ایک بوند پانی میں اضافہ نہیں کیا،کراچی کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کہاں ہے؟ گزشتہ ایک سال میں کراچی کی تعمیر وترقی کے لیے کیا کام کیا گیا؟،تاجروں کے موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ایس او پیز کے تحت اسکول اور کالجز بھی کھولے جائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *