کرونا وائرس کی ایک اور لہر کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ، حکومت نے عوام کو خبردار کر دیا

اسلام آباد(این این آئی) وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہاہے کہ اگر ہم ایس او پیز پر عمل درآمد میں سنجیدہ نہ ہوئے تو ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،60-70 فیصد لوگوں کی ویکیسنشن مکمل ہونے پر انحصار ویکسین پر ہوگا،فی الحال ہمیں انحصار ایس او پیز پر کرنا ہوگا۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہاکہ ہماری تیسری لہر میں کچھ کمی

بتدریج ہوتی نظر آرہی ہے،گزشتہ ہفتے یومیہ ٹیسٹ 47 ہزار سے لیکر 55 ہزار تک ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ کورونا کے یومیہ مثبت کیسز کی شرح 4 فیصد چل رہی ہے،ابھی تک جو پابندیاں عائد کیں ان کا نتیجہ سامنے آرہا ہے،سندھ میں ابھی تک شرح نیچے نہیں آسکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سندھ میں تیسری لہر چونکہ زرا دیر سے آئی اس لیے اس کا سائیکل زرا پیچھے ہے،سندھ میں پازیٹو کیسز کی شرح 6 اور 7 فیصد چل رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس دور ان تمام پابندیوں کو سہنے والے شہریوں کا مشکور ہوں،ان بندشوں پر عمل کرنے میں کمی ہونے پر تشویش ہے،خدشہ ہے کہ اس سے کہیں بیماری میں دوبارہ سے اضافہ نہ ہوجائے۔ انہوںنے کہاک ہاگر ہم ایس او پیز پر عمل درآمد میں سنجیدہ نہ ہوئے تو ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ویکیسنشن میں بطور کورونا پھیلاؤ روکنے میں انحصار کی حد تک نہیں پہنچے،60-70 فیصد لوگوں کی ویکیسنشن مکمل ہونے پر انحصار ویکسین پر ہوگا،فی الحال ہمیں انحصار ایس او پیز پر کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ویکیسنشن مہم بہت اچھی چل رہی ہے،22 لاکھ لوگ مکمل طور پر دونوں ڈوزز اور 37 لاکھ لوگ سنگل ڈوز لگوا چکے ہیں،مجموعی طور پر 80 لاکھ کے قریب خوراکیں لگ چکی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مجموعی خوراکیں لگنے کے اعتبار سے پاکستان ٹاپ 30 ممالک میں شامل ہوگیا ہے،دنیا کے 165 ممالک سے زائد خوراکیں پاکستان میں لگ چکی ہیں،3 لاکھ سے 4 لاکھ یومیہ خوراکیں لگ رہی ہیں جو ناکافی ییں،7-8 لاکھ یومیہ خوراکیں لگنا بہت ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ 30 سال سے زائد عمر والے افراد واک ان ویکیسنشن لگوا سکتے ہیں،سینٹرز کی تعداد اب ہزاروں کی تعداد میں جاچکی ہے،18 سال سے عمر کے تمام افراد کی رجسٹریشن کھل چکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے تمام ٹیچرز اور سکول کے عملے کے لیے واک ان ویکسینشن جاری ہے،فائزر ایک مشہور ویکسین ہے جس کی منظوری ڈبلیو ایچ او نے دی ہے،ڈریپ کی جانب سے بھی فائزر کے استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے،اس کا استعمال حج پر جانے والے یا دیگر ممالک میں جانے والوں کے لیے ہوگا،وہ تمام ممالک جہاں فائزر لگوانا ضروری ہوگا وہاں جانے والوں کو ہی لگائی جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *