بجلی کی قیمت 6 روپے 31 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

کراچی (این این آئی) کے الیکٹرک نے نیپرا سے بجلی 6 روپے 31 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے شہریوں کے لئے ایک بری خبر ہے کہ کے الیکٹرک نے کراچی کے شہری بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی درخواست کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نے نیپرا سے بجلی 6

روپے 31 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے۔کے الیکٹرک نے نیپرا سے درخواست کی ہے کہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹس کی مد میں بجلی 5 روپے 95 پیسے، سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کیلئے بجلی 36 پیسے فی یونٹ مہنگی کی جائے۔ نیپرا کے الیکٹرک کی درخواستوں پر 15 جون کو سماعت کرے گا۔کے الیکٹرک نے جنوری تا مارچ 2021 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹس کیلئے بجلی 5 روپے 95 پیسے، جنوری تا مارچ 2021 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 36 پیسے، جنوری 2021 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1 روپے 97 پیسے، فروری2021 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 2 روپے 49 پیسے، مارچ 2021 کی ایڈجسٹمنٹ کیلئے بجلی کی قیمت میں 1 روپے 49 پیسے اضافے کی درخواست کی ہے، جب کہ اپریل 2021 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 86 پیسے کمی کی استدعا کی گئی ہے۔ دوسری جانب کورونا کے روزگارپراثرات کے خصوصی سروے کے مطابق 67 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی واقع ہوئی۔اسٹیٹ بینک دوسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق کورونا کے روزگارپراثرات کے خصوصی سروے کے مطابق 67 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی واقع ہوئی۔ لاک ڈاؤن کے دوران ورکرزکی تعداد 3 کروڑ50 لاکھ کی سطح پر آگئی، کورونا کی وبا سے قبل ورکرز کی تعداد 5

کروڑ 57 لاکھ تھی، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اورآمدورفت کی آسانی کے بعد بے روزگار ورکرزکی تعداد 37 فیصد کم ہوگئی، ورکرزکی تعداد 5 کروڑ 25 لاکھ تک بحال ہوچکی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق لاک ڈاؤن میں تعمیراتی صنعت سے وابستہ روزگارمیں سب سے زیادہ 59 فیصد کمی واقع ہوئی، تعمیراتی صنعت سے وابستہ 21

فیصد ورکرزکو آمدن میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، رواں مالی سال مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 2 سے 3 فیصد رہیگی، رواں مالی سال کی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 2.1 فیصد رکھا گیا تھا، مہنگائی کوہدف 6.5 فیصد تک محدود رکھنا مشکل ہوگیا ہے، مہنگائی کی شرح نمو7 سے 9 فیصد رہے گی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کرنٹ

اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا ایک فیصد تک رہے گا، مالیاتی خسارہ کو 7 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا گیا تھا، مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 6.5 سے 7.5 فیصد رہے گا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق بسندھ اورپنجاب میں روزگارکی بحالی کا عمل تیز ہورہا ہے، جولائی نومبر 2021 میں روزگار کی نمو 0.9 فیصد کی سطح پر آگئی،

جولائی تا نومبر 2020 میں روزگارکی نمو 0.3 فیصد تک گر گئی، مینوفیکچرنگ سیکٹر میں روزگار کی بحالی کا عمل تیز ہورہا ہے، تعمیراتی صنعت میں سرگرمیاں تیزہونے سے روزگارکی بحالی کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کپاس کی پیداوار1986 کے بعد کم ترین سطح پرآگئی، زرعی شعبے میں خریف کی اہم فصلوں نے گزشتہ برس کی نسبت بہترکارکردگی دکھائی، صنعتی نمومیں تعمیرات اورمنسلک صنعتوں، غذائی پروسیسنگ کی صنعتوں نے اہم کردارادا کیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *