کسی سے دشمنی نہیں، فوج کی بطور ادارہ عزت کرتا ہوں حامد میر کا غداری کے مقدمہ کی درخواست پر ردعمل آگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)سینئر صحافی حامد میر نے غداری کے مقدمہ کی درخواست پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ”پاکستان کے مختلف شہروں میں کچھ مخصوص لوگ پولیس کو درخواستوں میں یہ الزام لگا رہے ہیں کہ میں نے پاک فوج کے جرنیلوں کے نام لیکر ان پر الزام لگائے میری تقریر کے الفاظ سخت ہو سکتے ہیں لیکن میں نے کسی کا نام

نہیں لیا نہ کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی ہے میں فوج کی بطور ادارہ عزت کرتا ہوں”دوسری جانب سینئر صحافی واینکر پرسن حامد میر کو پروگرام کیپٹل ٹاک کی میزبانی سے ہٹانے پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے جیو نیوز کیلئے تقریبات کی کوریج پر پابندی عائد کردی۔تفصیلات کے مطابق نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سیکرٹری انور رضا کی جانب سے جاری بیان میں کہنا ہے کہ نیشنل پریس کلب نے جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان اور سینئر صحافی حامد میر کو آف ایئر کرنے پر جیو نیوز کے لوگو پر پابندی عائد کردی۔ کلب انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر حامد میر کو تین روز میں دوبارہ پروگرام کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو جیو نیوز کی کلب میں کوریج پر مستقل پابندی عائد کردی جائے۔کلب انتظامیہ نے جیو نیوز مینجمنٹ کی جانب سے حامد میر کو آف ایئر کرنے کو آزادی اظہار رائے کے منافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حامد میر کو فی الفور بحال کیا جائے

ورنہ صحافتی تنظیمیں ان کی بحالی کیلئے آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں گی اور احتجاج کا سلسلہ وسیع کیا جائے گا۔دوسری جانب میڈیا تنظیموں کے نمائندگان نے پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو مسترد کر تے ہوئے آرڈیننس کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا تنظیموں کے نمائندگان کا

مشترکہ اجلاس ہوا جس میں پی بی اے، اے پی این ایس اور دیگر تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ مجوذہ آرڈیننس کا مقصد میڈیا کی آزادی کو کنٹرول کرنا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ آرڈیننس سے میڈیا پر وفاقی حکومت کا کنٹرول مضبوط ہوگا،مجوزہ آرڈیننس ایوب خان کے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس کی توسیع ہے،

آزاد اور جمہوری معاشرے میں ایسے آرڈیننس کی کوئی جگہ نہیں ہے۔مشترکہ اجلاس میں آرڈیننس کے خلاف مشترکہ مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پی بی اے، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یو جے اور اے ای ایم ای ڈی پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *