550 کا ازاربند۔۔سوشل میڈیا پر تنقیدکے بعد مولانا طارق جمیل نے بھی خاموشی توڑ دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ دینی مدارس کو اپنی حلال کی کمائی سے چلائیں گے اور جہاں زکوۃ وہاں لگنی چاہیے جہاں پر اس کا صحیح حق ہے ۔ برانڈ کی لانچنگ پر تنقید کرنے والوں کیلئے مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ منفی باتیں پھیلانے والوں کیلئے میری دعا ہے کیونکہ آپ کی منفی باتوں نے ہمیں پروموٹ کیا ہے آپ کی

وجہ سے ہماری مشہوری ہوئی ۔ میں آپ سب کیلئے دعا گو اور شکر گزار ہوں آپ کی وجہ سے ہمارے برانڈ کو مشہوری ملی ، اللہ ہم سب کو ہدایت دے ۔ واضح رہے کہ مولانا طارق جمیل کے برانڈ ایم ٹی جے کی جانب سے ازاد بند کی 550 روپے میں فروخت پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، جس پر مولانا طارق جمیل کے برانڈ کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ ایم ٹی جے برانڈ نہ تو ازار بند بناتاہے اور نہ ہی فروخت کرتا ہے، 550 روپے میں ازار بند فروخت کرنے کی خبریں غلط ہیں، برانڈ نے اس کو جھوٹی خبر قرار دیا اور عوام سے مطالبہ کیا کہ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں سے دور رہیں اور اس لوگوں کو بے نقاب کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے مولانا طارق جمیل کی اس ازار بند کو لے کر کردار کشی کا سلسلہ جاری تھا۔ جس پر برانڈ کو وضاحت کرنا پڑی۔دریں اثنا معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل پر عوام کی جانب سے ایک بار پھر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، اس کی وجہ ان کے برانڈ ایم ٹی جے پر مہنگے داموں عبایا کی فروخت ہے، اس سے قبل بھی عوام کی جانب سے زائد قیمتوں پر برہمی کا اظہار کیا گیا تھا لیکن ایم ٹی جے نے وضاحت جاری کی تھی یہ سب افواہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس پر عوام نے تنقید کا سلسلہ بند کر دیا تھا، لیکن اب ایم ٹی جے کے کراچی طارق روڈ پر واقع سٹور پر عبایا بیس ہزار سے تیس ہزارکی قیمت میں فروخت ہو رہا ہے، اس دفعہ یہ کوئی افواہ نہیں کیونکہ اس دفعہ لوگوں نے خود سٹور کا وزٹ کیا ہے اور عبایا کی قیمتیں خود دیکھی ہیں، جس پر مولانا طارق جمیل ایک دفعہ پر تنقید کی زد میں ہیں، سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایک صارف نے کہاکہ ایک مخصوص کلاس جو منافقت کرتی ہے، جب یہ مسجد میں ہوتے ہیں تو مساوات کی بات کرتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ایم ٹی جے سٹور کا عبایا مجھے پل صراط سے سیدھا جنت تک لے جا سکتا ہے، ایک صارف نے لکھا کہ صرف ایم ٹی جے ہی خواتین کے بے حیائی اور مختصر لباس پہننے پر قومی ٹیلی ویژن پر آنسو بہا سکتا ہے اور پھر بیس ہزار میں خواتین کے لئے عبایا لانچ کر سکتا ہے، آخر میں لکھا کہ تم کون ہو جو میری قوم کی بیٹیوں کاپردہ مہنگا بنا رہے ہو۔ ایک صارف نے لکھا کہ عباس پانچ ہزار میں ملتا ہے، پچیس ہزار کا عبایا کیا آپ سنجیدہ ہیں، اتنے ریٹ پر کون لگاتا ہے، کیا یہ غریب لوگوں کے لئے ہے یا برگرز فیملی کے لئے۔ غرض تنقید کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *