ملک ترقی نہیں کرتے ریجن ترقی کرتے ہیں

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان  اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی پارلیمانی اسمبلی میں مشترکہ چارٹرکی منظور پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ممالک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں، خطے کے مسائل حل کرلیں تو ہم پاور ہاؤس بن جائیں گے، جب کمیٹیاں زیادہ فعال ہوں گی، آپس میں رابطے بڑھیں گے تو

انشااللہ ہمارے ملک بھی قریب آجائیں گے،فلسطینی اور کشمیری یو این قراردادوں پر عمل نہ ہونے سے تکلیف میں ہیں، افغانستان میں انتشار ہوگا تو ہمارا خطہ مشکلات کا شکار ہوگا، افغانستان میں حالات بہتر ہوں گے تو خطے کو بھی اس کا فائدہ ہوگا، ہم سب کوکوشش کرنی چاہیے افغانستان سے غیرملکی فوج کاانخلاپرامن ہو، اس سے اقتصادی تعاون بڑھانے اور تجارت سے خطے میں ترقی ہوگی۔بدھ کو اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی پارلیمانی اسمبلی کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ رکن ممالک کے تمام نمائندوں اور پاکستان آئے ہوئے پارلیمنٹرینز کو خوش آمدید کہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ اسلام آباد چارٹر پر دستخط کرکے منظور کیا، جس پر میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ اس میں آپ نے چند اہم باتیں کی ہیں۔انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے آپ نے کمیٹیاں بنائیں جو ان 10 ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مزید بڑھائیں گی، دنیا میں ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں اور یہ اتنا بڑا خطہ ہے کہ میرے خیال میں ترکی کے اسپیکر نے کہا کہ ہماری مجموعی آبادی 45 کروڑ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 45 کروڑ کی آبادی ایک بہت بڑی ہیومینٹی کا نام ہے اور اس میں پوٹینشل ہے، اگر ہم اتنی تعداد کو صحیح معنوں میں منسلک کریں اور

تجارت بڑھا لیں اوراپنے مسئلے حل کرلیں تو یہ پورا پاور ہاؤس بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں مختلف ممالک کی مختلف خاصیت ہے کہ کسی کے پاس نوجوان آبادی ہے اورمختلف وسائل ہیں ہے، جب یہ مجتمع ہو اور اس صلاحیت کا استعمال کریں تو سب کا فائدہ ہے۔انہوں نے کہاکہ یورپی یونین ہماری سامنے بنی اور دیکھتے ہی

دیکھتے سب کا معیار زندگی اوپر چلا گیا کیونکہ جب آپ معاشی تعاون بڑھاتے ہیں تو کسٹم پر ایک دوسرے کی چیزوں پر رکاوٹیں کم کرتے ہیں اور ڈیوٹیز ختم کرتے ہیں تو تجارت سے سارے علاقے کو فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سارے خطے کے اندر زبردست موقع ہے کہ رابطہ کاری بڑھا کر زیادہ تعاون کرکے اور جو

کمیٹیاں بنائی ہیں، مجھے لگتا ہے 2013 کے بعد بہت بڑا خلا ہے کہ اسپیکرز کا اجلاس ہوا ہے۔ ورزیر اعظم نے کہاکہ جب کمیٹیاں زیادہ فعال ہوں گی اور آپس میں رابطے بڑھیں گے تو ان شااللہ اس سے ہمارے ملک بھی قریب آجائیں گے، پارلیمنٹ ایک ایسی جگہ جہاں بڑے مسئلوں کے فیصلے ہوتے ہیں اور مذاکرے ہوتے ہیں تو جب آپ

کی کمیٹیاں فعال ہوں گی توادھر یہ بھی بات ہوگی کہ کن شعبوں میں مسائل آرہے ہیں اور ان مسائل کو دور کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ آپ نے تجارت اور رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ سیاسی مسائل پر واضح اسٹینڈ لیا کیونکہ دو مسئلوں سے ہماری جذباتی وابستگی ہے کیونکہ وہاں ناانصافی کی وجہ سے لوگوں پر

ظلم ہورہا ہے اور ان کو وہ حق نہیں مل رہا جو بین الاقوامی قانون نے دیا او اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں ان کے حق میں ہیں لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر میں لوگ بڑی تکلیف میں ہیں، آپ نے اس پر واضح طور پر قرار داد پاس کی، انصاف کے لیے آواز شروع تھوڑی ہو

مگر جب بڑھتی ہے تو ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ میری آج تاجکستان کے صدر امام علی سے ملاقات ہوئی تو احساس ہوا کہ خطے میں مزید مسائل ہیں، ایک تو گلوبل وارمنگ کا مسئلہ ہے، اگر درجہ حرارت اسی طرح اوپر جاتا گیا تو گلیشیئرز والے ممالک کو زیادہ خطرہ ہے کیونکہ ان کے لیے پانی کا مسئلہ بڑھتا جائے گا۔انہوں نے

کہا کہ اگر ہم نے ابھی سے سخت اقدامات نہ کیے اور کوشش نہیں کی تو ہمارا مسئلہ، تاجکستان، کر غیزستان، ازبکستان اور قازقستان سب کو مسائل آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی روکنے کے لیے مہم چل رہی ہے، اس تحریک کا حصہ بن کر ہمیں ابھی سے کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے اثرات کم کریں۔انہوں نے کہا

کہ پاکستان نے اس حوالے سے بڑے اقدامات کیے ہیں اور خیبرپختونخوا میں 2013 سے 2018 تک ایک ارب درخت لگائے اور اب ہم نے اگلے 5 سال کے اندر پاکستان بھرمیں 10 ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا ہے اور اس کا ایک ارب کا ہدف پچھلے دنوں میں مکمل کرلیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ تاجکستان اورپاکستان نے طے کیا ہے کہ جب افغانستان سیامریکی فوج واپس جائے تو ہم پوری طرح کوشش کریں کہ پرامن انخلا اور سیٹلمنٹ ہو، اگر

افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہوئے تو ہم سب اسے متاثر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم سی ای او ممالک کو اپنی طرف سے زور لگانا چاہیے کہ امریکی اورنیٹو فورسز افغانستان سے جا رہی ہیں تو یہ انخلا پرامن ہو، وہ نہ ہو جو 1988 میں ہوا جب سویت یونین افغانستان سے نکلی تو کیا ہوا ہم سب جانتے ہیں۔وزیراعظم نے اسلام آباد چارٹر جاری کرنے پر ای سی او پارلیمانی اسمبلی کا شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی کہ اس سے خطے کو فائدہ ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *