بھارتی، چینی ،روسی ویکسین لگوانے والوں کو یورپ میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا اعلان ‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/اے پی پی)بھارتی، چینی اور روسی ویکسین لگوانے والے یورپین یونین میں داخل نہیں ہوسکتے۔یورپین یونین کا کہنا ہے کہ بھارتی، چینی اور روسی ویکسین لگوانے والے یورپین یونین میں داخل نہیں ہوسکتے۔قومی موقر نامے کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کا کہنا ہے کہ صرف یورپین یونین کی مصدقہ ویکسین لگوانے والوں کوسفر کی اجازت ہوگی۔

یورپی یونین کی مصدقہ 4 ویکسینز میں موڈرنا، فائزر، اسٹرازینکا اور جانسن اینڈ جانسن شامل ہیں۔قبل ازیں یورپی یونین نے فیصلہ کیا تھا کہ کورونا ویکسین کی دو خوراک لگوانے والے پاکستانی اور دیگر ممالک کے شہریوں کو یورپ میں داخلے کی اجازت ہو گی،حتمی اعلان کے بعد پاکستان سمیت دیگر ممالک کے شہری جن کے پاس کورونا ویکسین کی دو خوراکیں لگوانے کا سرٹیفکیٹ ہو گا وہ یورپ کے کسی ملک میں بغیر کسی روک ٹوک کے داخل ہو سکیں گے۔ دوسری جانب امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد3 کروڑ41 لاکھ11 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ منگل کو امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد6 لاکھ 9 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد34113146 اور 5639539 فعال متاثرین ہیں۔ حکام کے مطابق ملک میں مہلک وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، امریکہ کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا سے اب تک609767 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد35 لاکھ 65 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ کورونا وائرس کی دوسری اور تیسری لہر کے دوران بھی امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ27863840 سے زائد افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ کورونا وائرس سے امریکہ کی کیلیفورنیا، نیویارک اور نیو جرسی سمیت کئی ریاستیں سخت متاثر ہوئی ہیں۔ امریکہ میں لوگوں کو مہلک کورونا وائرس سے بچانے کیلئے اب تک 29کروڑ49 لاکھ سے زائد خوراکیں دی جاچکی ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن ممالک میں کورونا وائرس سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں ان میں امریکہ، برازیل، بھارت، میکسیکو، فرانس، اٹلی، روس اور برطانیہ شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *