سعودی عرب میں پاکستانی11 سو قیدیوں کی فوری واپسی ممکن نہیں ، پاکستانی سفیر جنرل(ر)بلال اکبر نے واضح کر دیا

جدہ ( آن لائن) سعودی عرب میں پاکستان کے سفیرجنرل(ر) بلال اکبر نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے11 سو قیدیوں کی واپسی میں 2 سے 3 ماہ مزید لگ سکتے ہیں۔جدہ میں خلیجی نیوز ویب سائٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں

اس وقت ڈھائی ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہری مختلف جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان قیدیوں میں سے 11 سو کے قریب ایسے ہیں جن کے جرائم کی نوعیت کم سنگین اور ان کی سزائیں کم ہیں۔ ان قیدیوں کی پاکستان منتقلی کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے بعد اس کے طریقہ کار پر عمل کیا جارہا ہے اور اس میں مزید 2 سے 3 مہینے لگیں گے۔بلال اکبر کا کہنا تھا کہ سعودی جیلوں میں ایسے 400 سے 500 پاکستانی بھی قید ہیں جو جرمانے ادا نہ کئے جانے کی وجہ سے رہا نہیں ہوسکے، اس سلسلے میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے، فنڈز کی فراہمی کے لیے حکومت کو احساس پروگرام، بیت المال یا او پی اایف کے فنڈز کو استعمال کرنے کی تجاویز بھجوائی گئی ہیں۔ ہمیں احساس پروگرام سے فنڈز ملنے کی امید ہے، اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان جلد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے گزشتہ ڈھائی ماہ میں رضا کاروں کی مدد سے رقم جمع کرکے 54 قیدیوں کو رہا کرایا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *