فائزر کی کورونا ویکسین 12 سے 15سال کے بچوں کو لگانے کی منظوری دیدی گئی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)یورپی یونین نے فائزر کی کورونا ویکسین 12 سے 15 سال کے بچوں کو لگانے کی منظوری دے دی۔برطانوی میڈیا کے مطابق اس عمر کے لیے یورپی یونین میں یہ پہلی ویکسین منظورکی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک انفرادی طورپرفیصلہ کریں گے کہ ان کے ملک میں اس عمر کے بچوں کو ویکسین لگانیہے یا نہیں جب کہ جرمنی نے اس حوالے سے گرین سگنل دے دیا ہے۔خیال رہے کہ امریکا اور کینیڈا میں نوعمروں کے لیے بھی فائزر ویکسین کی منظوری دی جاچکی ہے۔ماہرین کے مطابق 12 سے 15 سال کی

عمر کے بچوں کو فائزر کی 2 خوراکیں 3 ہفتوں کے وقفے سے لگیں گی۔ یورپی یونین کی جانب سے یہ منظوری ایسے وقت دی گئی ہے جب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یورپ میں ویکسینیشن میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک 70 فیصد افراد کو ویکسین نہیں لگ جاتی وبا کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔دوسری جانب کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے مریضوں کے پھیپھڑوں کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے کم از کم 3 ماہ بعد بھی نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔شیفیلڈ یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ صحتیابی کے بعد بھی کووڈ کے مریضوںکے پھیپھڑوں کو ہونے والا نقصان عام سی ٹی اسکینز اور کلینکل ٹیسٹوں میں نظر نہیں آتا۔ان مریضوں کو بس یہ بتایا جاتا ہے کہ پھیپھڑے معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔مزید ابتدائی تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ کے ایسے مریض جن کو ہسپتال میں داخل ہونا نہیں پڑا مگر سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کے پھیپھڑوں کو بھیایسا نقصان پہنچنے کا امکان ہوتا ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔طبی جریدے ریڈیولوجی میں شائع تحقیق میں ماہرین نے ہائپر پولرائزڈ شینون ایم آر آئی (شی ایم آر آئی)اسکین سے کووڈ کے کچھ مریضوں میں 3 ماہ سے زائد عرصے بعد بھی پھیپھڑوں میں منفی تبدیلیوں کو دریافت کیا گیا، کچھ کیسز میں ہسپتال سے نکلنے کے 8 ماہبعد بھی مریضوں کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچ رہا تھا۔محققین کا کہنا تھا کہ شی ایم آر آئی سے پھیپھڑوں کے ان حصوں کی نشاندہی ہوئی جہاں آکسیجن کے استعمال کی صلاحیت کووڈ کے اثرات سے متاثر ہوچکی تھی، حالانکہ سی ٹی اسکین میں سب کچھ ٹھیک نظر آتا رہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہماری تیار کردہ امیجنگ ٹیکنالوجی دیگر کلینکل مراکز میں بھیمتعارف کرائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کووڈ کے متعدد مریضوں کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے کئی ماہ بعد بھی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے حالانکہ سی ٹی اسکین میں پھیپھرے معمول کے مطابق کام کرتے نظر آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پھیپھڑوں کو ہونے والا یہ نقصان عام ٹیسٹوں سے دریافت نہیں ہوسکتا جبکہ اس سے دوران خوران میںآکسیجن کے پہنچنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔محققین کے مطابق اگرچہ یہ ابتدائی نتائج ہیں مگر لانگ کووڈ کے شکار 70 فیصد مریضوں کے پھیپھڑوں کو بھی ممکنہ طور پر اسی طرح کے نقصان پہنچا ہوگا، مگر اس کی شتصدیق کے لیے مید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ کتنا عام مسئلہ ہے اور حالت کب تک بہتر ہوسکتی ہے۔اس سے قبل مئی 2021 کےآغاز میں برطانیہ کی ساتھ ہیمپٹن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے ایک تہائی افراد کے پھیپھڑوں میں ایک سال بعد بھی منفی اثرات کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین نے چین کے شہر ووہان کے ماہرین کے ساتھ مل کر سنگین کووڈ 19 نمونیا کے مریضوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ ایک سال بعد ان کی حالت کیسی ہے۔اس مقصد کے لیے 83 مریضوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا جو کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کا شکار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔ان مریضوں کا جائزہ 3، 6، 9 اور 12 مہینوں تک لیا گیا یعنی ہر 3 ماہ بعد ان کا معائنہ کیاگیا۔ہر بار معائنے کے دوران طبی تجزیئے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں کے افعال کی ان پڑتال کی گئی، جس کے لیے سی ٹی اسکینسے پھیپھڑوں کی تصویر لی گئی جبکہ ایک چہل قدمی ٹیسٹ بھی لیا گیا۔ایک سال بعد اکثر مریض بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے تاہم 5 فیصد افراد تاحال سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کررہے تھے۔ایک تہائی مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال بدستور معمول کی سطح پر نہیں آسکے تھے، بالخصوص پھیپھڑوں سے خون میں آکسیجن کو منتقل کرنے کیصلاحیت زیادہ متاثر نظر آئی۔ایک چوتھائی مریضوں کے سی ٹی اسکینز میں دریافت کیا گیا کہ ان کے پھیپھڑوں کے کچھ چھوٹے حصوں میں تبدیلیاں آرہی تھیں اور یہ ان افراد میں عام تھا، جن کے پھیپھڑوں میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے دوران سنگین تبدیلیاں دریافت ہوئی تھیں۔محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 نمونیا کی سنگین شدت کے شکار مریوںکی اکثریت بظاہر مکمل طور پر صحتیاب ہوجاتی ہے، تاہم کچھ مریضوں کو اس کے لیے کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کے پھیپھڑوں کے افعال متاثر ہونے کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے اور اس حوالے سے جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی نہیں جانتے کہ 12 ماہ کے بعد مریضوں کے ساتھ کیاہوتا ہے اور اسی لیے تحقیق کو جاری رکھنا ضروری ہے۔محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق میں مریضوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی اور اضافی تحقیق سے نتائج کو تصدیق کرنے کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے چن اہم چیزوں کی ضرور شناخت کی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *