تین روز میں ڈالر 1 روپیہ 42 پیسے مہنگا ہو گیا

کراچی (مانیٹرنگ +این این آئی) گزشتہ تین دنوں میں ڈالر ایک روپیہ 42 پیسے مہنگا ہو گیا۔ دوسری جانب مقامی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں ریکوری دیکھنے میں آئی اور انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 20پیسے جب کہ اوپن مارکیٹ میں 30پیسے کی کمی

ہوئی۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت خرید20پیسے کی کمی سے154.75روپے سے گھٹ کر154.55روپے اور قیمت فروخت154.85روپے سے گھٹ کر154.65روپے ہوگئی جب کہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید30پیسے کی کمی سے 154.80 روپے سے گھٹ کر 154.50 روپے اور قیمت فروخت 10پیسے کی کمی سے155.10 روپے سے گھٹ کر 155 روپے ہو گئی۔ دیگر کرنسیوں میں یورو کی قیمت خرید1روپے کی کمی سے188.50 روپے سے گھٹ کر 187.50 روپے اور قیمت فروخت 190 روپے سے گھٹ کر189 روپے ہوگئی جب کہ برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 50 پیسے کی کمی سے218.50 روپے سے گھٹ کر218 روپے اور قیمت فروخت220 روپے سے گھٹ کر 219.50 روپے ہوگئی۔دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کواتار چڑھاوٗ کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مندی غالب آگئی اور کے ایس ای100انڈیکس 21.56پوائنٹس کی کمی سے 46790.75پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ55.78 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو30ارب 79کروڑ66لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑاتاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری

سرگرمیاں عروج پر رہیں اور کاروباری حجم2ارب 22کروڑ56ہزار کی سطح عبور کرنے میں کامیاب ہوگیا جو کسی بھی ایک ٹریڈنگ سیشن میں ملکی تاریخ کا ریکارڈ کاروباری حجم ہے۔گز شتہ روزکاروبار کے آغازسے ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے شیئرز خریداری میں غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آئی جس کے باعث تیزی رہی

اور کے ایس ای100انڈیکس47ہزار کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے 47206پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیاتاہم بعد ازاں منافع حاصل کرنے کی عرض سے حصص فروخت کا رجحان بڑھ گیا جس کے سبب تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور دوران ٹریڈنگ انڈیکس46686پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا بعد میں 46700کی نفسیاتی

حد بحال ہوگئی لیکن مندی کا رجحان غالب آگیااور کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای100انڈیکس21.56پوائنٹس کی کمی سے46790.75پوائنٹس پر بند ہواجب کہ 10.63پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای30انڈیکس 19137.48پوائنٹس اورکے ایس ای آل شیئرا نڈیکس119.29پوائنٹس کے اضافے سے31463.37پوائنٹس

کی سطح پرآگیا۔گزشتہ روزمجموعی طور پر432کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے173کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ241میں کمی اور 18کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔مندی کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت80کھرب97ارب49کروڑ37لاکھ روپے سے گھٹ کر80کھرب66ارب69کروڑ71لاکھ

روپے ہو گئی۔جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم2ارب 22کروڑ56ہزارشیئرز رہا جو ملکی تاریخ کی کسی بھی ایک ٹریڈنگ سیشن میں سب سے زیادہ کاروباری حجم ہے بدھ کوکاروباری حجم ایک ارب 56کروڑ33لاکھ 60ہزار شیئرز تھا جو ریکارڈ کاروباری حجم تھا لیکن ایک روز بعد ہی یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

قیمتوں میں اتار چڑھاوکے اعتبار سے کولگیٹ پامولو کے حصص 36.99روپے کے اضافے سے2850روپے اورگیٹرن انڈسٹریز33.52روپے کے اضافے سے480.56روپے ہوگئی جب کہ یونی لیور فوڈز983روپے کی کمی سے15616روپے اورپاک ٹوبیکو71.86روپے کی کمی سے1263.14روپے ہوگئی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *