لاہور پولیس افسران نے تھانہ ہی بیچ ڈالا

لاہور(این این آئی) ٹاؤن شپ میں سبزی منڈی چوکی پرقبضے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف انکوائری مکمل ہوگئی۔ رشوت کے حصول کے لئے پولیس افسران نے تھانے کی جگہ ہی بیچ ڈالی۔ ایس پی سکیورٹی سردار موارہن نے 5 ماہ بعد پولیس چوکی پرقبضہ کروانے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ مکمل کرلی اور آئی جی پنجاب کوارسال

کردی۔ انکوائری میں ڈی ایس پی ذوالفقار بٹ اور ایس ایچ او ابرارشاہ کوگناہ گارقراردیدیاگیا۔ آئی جی پنجاب انعام غنی نے کرپشن میں ملوث دونوں افسران کومعطل کردیا۔ایس پی سکیورٹی سردارموارہن نے کہا کہ دونوں پولیس افسران نے ملی بھگت سے پولیس چوکی پرقبضہ کروایا، دونوں پولیس افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے، چوکی پرقبضہ کروانے میں ایل ڈی اے کے عملے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں، ایل ڈی اے کے افسر اکرم سعیدنے پولیس چوکی کے جعلی دستاویزات تیارکئے۔ سردار موارہن نے رپورٹ میں کہا کہ اکرم سعید سے متعلق ایل ڈی اے حکام کو انکوائری رپورٹ بھجوا دی گئی ہے۔ ڈی ایس پی ذوالفقاربٹ اورایس ایچ اوابرارشاہ کو نوکری سے برخاست کئے جانے کا امکان ہے۔ دونوں نے رشوت کی بھاری رقم لیکر پولیس چوکی پرائیوٹ افرادکوبیچ دی تھی۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی رابعہ فاروقی نے ایک تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت صوبے پنجاب کے شہری علاقوں میں جرائم کی شرح غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی محکمہ پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق رواں سال معمول کے مقابلے میں سنگین نوعیت کے جرائم میں 25 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جن میں ڈکیتی اور رہزنی کی

وارداتوں کی شرح زیادہ رہی۔ پنجاب پولیس کی تیار کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال کے چھ ماہ میں سنگین نوعیت کے جرائم میں پچیس فیصد اضافہ ہوا جن میں لاک ڈاؤن کے بعد شرح زیادہ رہی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق 2020کے پہلے چار ماہ میں سنگین نوعیت کے6525 مقدمات درج ہوئے جبکہ رواں سال میں چارماہ کے

دوران 7634 مقدمات درج کیے گئے۔اسی طرح رواں سال میں 4 ماہ کے دوران 1232 قتل، جبکہ گذشتہ سال 1214 افراد کوقتل کیا گیا۔ اس سال چھ ماہ کے دوران اندھے قتل کی 151جبکہ 2020کے اسی دورانیے میں 136 وارداتیں ریکارڈ ہوئیں۔ڈکیتی مزاحمت پر قتل میں دیگر شہروں کی نسبت لاہور پہلے نمبر پر رہا۔ جہاں

10 شہریوں کو قتل کیا گیا۔ گذشتہ سال لاہور میں سال کے پہلے 4ماہ کے دوران چار افراد کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا گیا تھا،رواں سال ڈکیتی اور راہزنی کی6158جبکہ گذشتہ سال5120وارداتیں ریکارڈ ہوئیں۔ اسی طرح رواں سال 4 ماہ میں گینگ ریپ کے 57 واقعات جبکہ 2020میں 56 واقعات ریکارڈ ہوئے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *