بھارت کا لداخ اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین کی جاسوسی کیلئے ڈرون استعمال کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی (این این آئی) بھارت کوجدید اسرائیلی ڈرونز جلد موصول ہوجائیں گے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق نئی دہلی 4ڈرونز مشرقی لداخ اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چین کی جاسوسی کیلئے استعمال کرے گا۔ڈرونز پہلے خریدے گئے ڈرونزسے جدید ہیں۔ اس کی جاسوسی اور جام کرنے کی صلاحیت بہتر ہے۔ بھارتی وزارت دفاع نے مودی کے

ایمرجنسی پروگرام کے تحت خرید کئے تھے۔ مودی کے ایمرجنسی پروگرام کے تحت فوج پانچ سو کروڑ روپے تک ضروری سامان کی ہنگامی خریداری کرسکتی ہے۔دوسری جانب گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے دنیا کا محفوظ تر ین ملک ہے مگر بھارت میں مودی کی نگرانی میں اقلیتوں کا قتل عام ہو رہا ہے،کرتارپورراہداری منصوبہ بھارت کو آج تک ہضم نہیں ہورہا،پاکستان میں تمام عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہم آہنگی سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ان کو تمام تر حقوق پوری طرح سے میسر ہیں۔امر یکہ سمیت عالمی طاقتوں کو بھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ بھارت میں اقلیتوں کو تحفظ اور مذہبی آزادی مل سکے۔ وہ امریکہ سے تعلق رکھنے والی سکھ کیمونٹی کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ پاکستان میں عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں سمیت تمام اقلیتیں امن طریقے سے مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کررہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ قائدا عظم محمد علی جناحؒ کے ویژن کے مطابق اقلیتوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور تحر یک انصاف کی حکومت اس ذمہ داری کو پورا کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ معاشرے میں کسی بھی عقیدے کے خلاف کوئی امتیاز نہیں پایا جاتا۔چوہدری محمدسرور نے

کہا کہ آئین پاکستان کسی بھی مذہب کا امتیاز کیے بغیر ہر فرد کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی پالیسیاں ملک میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سکھوں کے لئے کرتار پور راہداری کا منصوبہ حکومت پاکستان کی اقلیتی دوستی کی عظیم مثال ہے۔ گور نر

پنجاب نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ تر ین ملک ہے مگر مودی کی قیادت میں بھارت تمام اقلیتوں کے خلاف ہندوتوا نفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے اورجب سے نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور دوسرے

مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف ہندو جتھوں کے حملے معمول کا معاملہ بن چکے ہیں۔چوہدری محمدسرور نے مزید کہا کہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اپنی رپورٹوں میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی حالت زار اکثر بیان کرتی رہتی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے کہ

امریکہ سمیت عالمی طاقتیں بھی بھارت میں اقلیتوں کیساتھ ہونیوالے مظالم کا نوٹس لیں اور بھارت کو سفارتی دباؤ کے ذریعے مجبور کیا جائے کہ وہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے لوگوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ جان ومال کا تحفظ بھی یقینی بنائے اور اقلیتوں کے قتل عام کو بند کیا جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *