لاہورموٹر وے سانحہ کے بعد ایک اور انسانیت سوز واقعہ، سات افراد نے لڑکی کو اغواء کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد سڑک پر پھینک دیا

لاہور(این این آئی) صوبائی دارالحکومت لاہور میں سات افراد نے لڑکی کو اغواء کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد سڑک پر پھینک دیا اور فرار ہو گئے، پولیس نے لڑکی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی۔تفصیلات میں

بتایا گیا ہے کہ سات افراد نے گلشن راوی کے علاقے سے لڑکی کو اغوا کیا اور چوہنگ لے جا کر اجتماعی زیادتی کی اور بعدازاں سڑک پر پھینک کر فرار ہوگئے۔راہگیروں نے متاثرہ لڑکی کو جناح ہسپتال پہنچایا جہاں پولیس نے میڈیکل کروانے کے بعد لڑکی کا بیان قلمبند کیا۔ڈی آ ئی جی آپریشن ساجد کیانی کے حکم پر واقعے کا مقدمہ تھانہ چوہنگ میں متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری ملزم گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے افسران کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔پولیس نے ابتدائی شواہد اور بیانات کی روشنی میں تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ملوث ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور کے علاقے میں لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعہ کانوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ نے واقعہ میں ملوث ملزمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو فی الفور قانون کی گرفت میں لایا جائے اور متاثرہ لڑکی کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے۔دوسری جانب موٹروے پولیس ایڈیشنل آئی جی محمد زبیر ھاشمی کی زیر صدارت سیکٹر ون ایم فورپر پروقار تقریب کا انعقاد ڈی پی اوٹوبہ رانا عمر فاروق کی خصوصی شرکت تفصیل کے مطابق موٹروے سیکٹر ون ایم فورپر پروقار

تقریب کااہتمام کیا گیا تقریب میں ڈی آئی جی ایم فور زون سلطان احمد چوہدری، سیکٹر کمانڈر ایم فور سیکٹر ون چودھری عطا محمد، سیکٹر کمانڈر ایم فور سیکٹر ٹو احسان دانش کلیار نے شرکت کی ہے. ڈی پی اوٹیک سنگھ رانا عمر فاروق نے خصوصی شرکت کی آئی جی محمد زبیر ھاشمی نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے

کہا کہ موٹروے پولیس کی نیک نامی کو ہر صورت برقرار رکھاجائے گا انہوں نے افسران و ملازمان کے مسائل سنے اور متعلقہ افسران و ملازمان کے کچھ مسائل موقع پر حل کیے اور باقی مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔شہدا کے لیے خصوصی دعائیں کی گئی اور شہدا کے بچوں میں تحائف تقسیم کیے گئے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *