شہبازشریف لاہورواپس چلے گئے،اسلام آباد میں 2دن کیا کرتے رہے؟حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری ‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) شہباز شریف اسلام آباد میں 2روزہ قیام کے بعد واپس لاہور چلے گئے ،وفاقی دارالحکومت میں یہ وقت انہوں نے انتہائی مصروفیت میں گزارا تاہم انکی اعلانیہ مصروفیات میں پیر کی شب پارلیمانی رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ تھا جس میں پی ڈی ایم میں شامل دونوں ناراض جماعتوں کی نمائندگی بھی موجود تھی۔ روزنامہ جنگ میں

شائع فاروق اقدس کی خبر کے مطابق گوکہ مریم نواز بھی اسلام آباد میں ہی موجود تھیں لیکن انکی شہباز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی ، شہباز شریف کی دوسری مصروفیت مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات تھی جس کے بارے میں خود میزبان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف مہمان تھے اور مزاج پرسی کیلئے آئے تھے ،اس لئے سیاست پر کوئی بات نہیں ہوئی لیکن انکے اس موقف پر کوئی بھی یقین کرنے کیلئے تیار نہیں، اگر شہباز شریف کے عشائیے کی بات کریں تو بلاول بھٹو جو 2 دن قبل ہی دبئی سے واپس کراچی پہنچے تھے، اس لئے بھی میزبان ہی نہیں بلکہ شرکاء کو بھی یقین تھا کہ وہ اس عشائیے میں شرکت کیلئے اسلام آباد آئیں گے لیکن انکی نمائندگی کیلئے شیری رحمان اور راجہ پرویز اشرف موجود تھے، مدعوین میں یوسف رضا گیلانی کا نام تھا لیکن وہ شریک نہیں ہوسکے،عشائیے میں ایک سے زیادہ شرکاء نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عشائیے میں ’’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘‘ کے موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی ، شہباز شریف نے شرکاء سے اپنی گفتگو میں عشائیے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ میں جیل میں تھا ،اس لئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا، ملاقات کا مقصد اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں سے آنے والے دنوں میں اسمبلی کے اجلاس میں طے کی جانے والی مشترکہ حکمت عملی کے بارے میں تبادلہ خیال کرنا ہی مقصود تھا،

ویسے بھی بجٹ آنے والا ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، یہ بھی بات ہوئی کہ ’’ جہانگیر ترین گروپ‘‘ پر انحصار ہرگز نہیں کیا جاسکتا، اگر شرکاء کی بات واقعتاً درست ہے تو پھر تو اس عشائیے کی سیاسی اہمیت نہیں بنتی لیکن اسے شہباز شریف کی حکمت عملی بھی کہا جاسکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ

پی ڈی ایم کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، شاہد خاقان عباسی کا وہی موقف ہے جو ن لیگ ،پی ڈی ایم کا اور میرا ہے، پی ڈی ایم میں کوئی نیا اتحاد نہیں بن رہا ، شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر عشائیہ دیا اس کا پی ڈی ایم سے کوئی لینا دینا نہیں ،عدم اعتماد تحریک کیلئے مطوبہ نمبر سے زیادہ نمبرز موجود ہیں۔ جج شوکت عزیزصدیقی اور ارشد ملک کی گواہی کے بعد میرے اور نواز شریف کے کیسز ختم ہونے چاہئیں۔منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے

مریم نواز نے کہا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں پی ڈی ایم میںکوئی نیا اتحاد نہیں ہے نہ کوئی ہو رہا پی ڈی ایم کا فیصلہ تھا پی ڈی ایم اپنے موقف پر قائم ہے ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی شاہد خاقان عباسی کا وہی موقف ہے جو ن لیگ ،پی ڈی ایم اور میرا ہے، شاہد خاقان عباسی نے بالکل صیح بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس کا ابھی تک جواب نہیں آیا

وہ اپنا جواب جمع کراد ے پھر پی ڈی ایم جائزہ لے گی، عدم اعتماد کی تحریک کیلئے ہمیں نمبر کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہمارے پاس مطلوبہ نمبر سے زیادہ نمبر موجود ہیں ،یہ منصوبے چار سال سے ہوتے رہے ہیں بدنیتی سے کیا ہوا سارا کچھ آپ پر آرہا ہے ۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کا عشائیہ بطور اپوزیشن لیڈر اور پارلیمنٹرین کیلئے تھا اس کا پی ڈی ایم سے کوئی لینا دینا نہیں عشائیہ میں

میری عدم موجودگی کو ایشو نہ بنایا جائے وہ موجود ہیں تو ہر جگہ میری موجودگی ضروری نہیںہے۔ ایک سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار کا مسلم لیگ ن سے کیا تعلق ہے وہ توایک آزاد رکن ہیں ایسے انسان کے بارے میں میر ے سے سوال کریں جس کی کوئی قانونی حیثیت ہو ۔ جج شوکت عزیز صدیقی کے گواہی کے بعد

میرے اور ارشد ملک کی گواہی کے بعد نوازشریف کے کیسز ختم ہونے چاہے یہ سارے کیسز جھوٹے اور انتقامی کاروائی ہیں ریورس ا نجئیرنگ ہو گی تونظر آجائے گی ابھی تک تونظر نہیں آئی چیئرمین نیب سیاسی انتقامی کارائیوں میں استعمال ہو ئے ہیں چیئرمین نیب کا ایشو نہیں ایک چیئرمین کو ہٹائیں گے تو کوئی ویساہی دوسرا چیئرمین نیب لے آئیں گے جو چیئرمین نیب سے اس طرح کے

کام لیتے ہیں ان کا ایشو ہے، چیئر مین نیب کو استعمال کرنیوالے سب سے زیادہ گنہگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشترکہ طور پر مہنگائی کا معاملہ اٹھائے میر ے ساتھ کسی غریب کے گھر چلیں پتہ چل جائے گا کہ حالات کیا ہیں چند خالی اسٹالز پر جا کر حالات کا پتہ نہیں چلتا ، جھوٹ بول کر اعداد و شمار بتائے جار ہے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.