’پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم کی توہین کی ہے ‘ دونوں پارٹیوں سے متعلق مولانا فضل الرحمن نے بڑا اعلان کر دیا  

اسلام آباد(این این آئی)جمعیت علماء اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم کی توہین کی ہے جس کا ازالہ آپ کو کرنا پڑے گا، 29مئی کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا ،پی ڈی ایم کو بھرپور عوامی قوت کیساتھ متحرک کیا جائے گا،اے این پی اور پیپلز پارٹی کو نہیں بلائیں گے ،پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کی

مشاورت کے بعد متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا،اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی میں بنائے گئے بورڈ کو ماڈل مدرسہ کی طرز پر ناکام بنائیں گے،متروکہ وقف قانون کو واپس لیکر شرعی حیثیت کے تعین کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے،دوبارہ پاکستانی ہوائی اڈے امریکہ کودینا ملکی مفاد کیخلاف اور جنگ کو دعوت دینا ہے، ہماری زمین اور فضائیں کسی کیخلاف استعمال کرنے کی منظوری نہ دی جائے۔ منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس اسلام میں دو دن جاری رہا،اجلاس میں اہم قومی مسائل زیر غور آئے۔ انہوںنے بتایاکہ 29 مئی کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس طلب کر لیا گیاپی ڈی ایم کو بھرپور عوامی قوت کیساتھ متحرک کیا جائے گا، تمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار اور ناجائز ہے، جس نے تین سال میں ملک کو دیوالیہ کر دیا ہے، غریب عوام پر مہنگائی کا پہاڑ گرا کر انکی کمر توڑ دی گئی ہے، سوچے سمجھے نظریہ کے تحت مغرب کی ننگی تہذیب فروغ دیکر معاشرے کے حسن پر بدنما دھبہ لگایا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قیام امن کے دعوے ہوا ہوگئے ، فاٹا میں نیا نظام ناکام ثابت ہوا، وہاں سے بدامنی پورے ملک میں سرایت کر رہی ہے، قبائل کے درمیان مسلح لڑائیوں نے عام آدمی کا سکون چھین لیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی وقف املاک ایکٹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئی مسترد کرتی ہے، متروکہ وقف قانون کو واپس لیکر شرعی حیثیت کے تعین کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے۔انہوںنے کہا کہ نئے بورڈز کی منظوری دیکر مدارس کے نظم و نصاب کو توڑنے کی بھونڈی کوشش کی گئی، جے یو آئی سے منسلک کوئی مدرسہ کسی سرکاری بورڈ میں شمولیت اختیار نہیں کریگا، جے یو آئی وفاق المدارس العربیہ کو مضبوط کرے گی، اسٹبلشمنٹ کی پشت پناہی میں

بنائے گئے بورڈ کو ماڈل مدرسہ بورڈ کی طرز پر ناکام بنائیں گے، ملک گیر سطح پر مدارس کنونشن بلائے جائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ کو ہوائی اڈے دینا ملکی آزادی کیلئے خطرہ ہے، ایسا فیصلہ 2001 میں بھی کیا گیا تھا تاکہ امریکہ افغانستان میں طالبان کیخلاف استعمال کر سکے، پاکستان کی سرزمین افغانستان کیخلاف استعمال ہونا ملک کو جنگ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے میں غیرملکی فوج کا انخلاء منوا لیا تھا، پہلے بھی ریاستی سطح پر

فریق بن کر جنگ کے شعلے اپنے ملک لائے جو آج تک بجھائے نہیں جا سکے، دوبارہ پاکستانی ہوائی اڈے امریکہ کو دینا ملکی مفاد کیخلاف اور جنگ کو دعوت دینا ہے، ہماری زمین اور فضائیں کسی کیخلاف استعمال کرنے کی منظوری نہ دی جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جانب سے آپ کا پورا احترام رکھا گیا تاہم آپ کے جواب نے پی ڈی ایم کی توہین کی ہے جس کا ازالہ آپ کو کرنا پڑے گا۔پی پی پی کے بیان سے متعلق ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت ابھی میچور نہیں ہے کہ سیاستدانوں کے پروٹوکول کو فالو کر سکے۔

جو کام تین سال میں نہیں ہوسکا وہ کیا 2 سالوں میں ہوجائے گا؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب تک تحریک اپنے اصولوں پر قائم ہے اس سے مستقبل وابستہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک اپنے اصولوں پر قائم کے جس کیلئے کچھ دوستوں کی قربانی بھی دی، اس بنیاد پر ہم پاکستان کو ایک روشن مستقبل دینے کے لیے پر امید ہیں۔پیپلز پارٹی اور اے این پی کی دوبارہ پی ڈی ایم میں شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کو پی ڈی ایم کے سربراہی

اجلاس میں مدعو کرنے کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ جو جماعتیں پی ڈی ایم کا حصہ ہیں انہی کے سربراہان اجلاس میں بیٹھے گے، غور و فکر اور فیصلہ کریں گے، اس طرح ہوائی طور پر فیصلے نہیں ہوا کرتے۔کیا شہباز شریف سے ملاقات میں پیپلز پارٹی یا اے این پی کی واپسی کے حوالے سے کوئی بات ہوئی؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ طے کیا گیا ہے کہ

اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں کیا جائیگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہرایک اپنے آئینی دائرہ کار میں رہے اس حوالے سے کسی کوئی بات بری نہیں لگنی چاہیے، ملک کو سیاست دان اکیلے نہیں چلاتے اس میں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ بھی ساتھ چلتی ہے۔انہوںنے کہاکہ ضمنی الیکشن میں واضح ہوگیا اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کرے تو نتیجہ کیا ہوتا ہے اور نہ کرے تو کیا ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *