کراچی کے 80 سالہ بزرگ نے قرآن پاک سے لگاؤ کی خوبصورت مثال قائم کردی

لاہور(این این آئی)کراچی کے علاقے کورنگی کے رہائشی 80 سالہ بزرگ مشتاق احمد نے قرآن پاک سے لگاؤ کی مثال قائم کرتے ہوئے 26 سال میں اپنے ہاتھوں سے جیو میٹریکل رسم الخط میں خوبصورتی سے قرآن پاک تحریر کیا ہے۔80 سالہ مشتاق احمد کا آبائی تعلق پنجاب کے شہر جھنگ سے ہے اور انہوں نے 10 جماعتوں تک تعلیم حاصل کی ہے، مشتاق احمد کو قرآن وحدیث سے بے حد لگاؤ ہے یہی وجہ ہے کہ 1992 میں مشتاق احمد نے پینسل اور اسکیل کی مدد سے اپنے ہاتھوں سے جیومیٹریکل رسم الخط کے طرز کا قرآن لکھنا شروع کیا

اور 2018 میں مکمل کرلیا۔ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ قرآن پاک کو ملئیشین کاغذ پر لکھا گیا ہے، اسے خوبصورت بنانے کے لییو اٹر کلر کا استعمال کیا گیا ہے۔ مشتاق احمد کے مطابق جیومیٹریکل رسم الخط کا یہ قرآن 60 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی تیاری میں ان کے بیٹے محمد علی نے ان کی مدد کی۔ مشتاق احمد نے وزیراعظم سے اپنا قرآن کا نسخہ مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ میں رکھوانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کی تمام مساجد میں لاڈ سپیکر کے استعمال کے نئے ضابطوں کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت بیرونی لاڈ سپیکر اذان اور اقامت تک محدود ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق وزیر اسلامی امور، دعوت و ارشاد ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ نے ہدایت جاری کر دی ہے۔جاری ہونے والی ہدایت میں ملک کی مساجد کے آئمہ اور موذنین کو ہدایت دی گئی کہ وہ اذان اور اقامت کے علاوہ بیرونی لاڈ سپیکر کا استعمال نہ کریں۔وزارت کی ہدایت کے مطابق تمام مساجد میں بیرونی لاڈ سپیکر کی آواز والیوم کی پوری طاقت کے ایک تہائی ہوگی۔وزارت اسلامی امور نے تمام ریجنوں اور کمشنریوں میں اپنے ذیلی دفاتر سے کہا کہ مساجد میں نئی ہدایات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے۔وزارت نے کہا کہ دیکھا گیا ہے کہ مساجد میں لاڈ سپیکر کا استعمال بغیر کسی ضابطے کے ہورہا ہے جس کے باعث مساجد کے پڑوس میں واقع گھروں کے رہائشیوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔خاص طور پر مریض، معمر اور بچوں کو مساجد سے آنے والی اونچی آوازوں سے تکلیف ہوتی ہے۔علاوہ ازیں بے ضابطہ استعمال کی وجہ سے محلے کی مختلف مساجد کے ائمہ کی آوازیں ایک ہی وقت میں اٹھتی ہیں تو ان سے لوگ پریشان ہوتے ہیں۔وزارت نے جو ہدایت نامہ جاری کیا وہ شرعی دلائل پر مبنی ہے جن کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ امام کی آواز مسجد کے اندر موجود نمازیوں تک پہنچانا ضرورت ہے مگر مسجد کے باہر لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت نہیں۔وزارت نے کہا کہ بیرونی لاڈ سپیکر پر امام کی تلاوت کو اگر سنا نہ جائے تو اس سے خود قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے۔مذکورہ ہدایت علامہ شیخ محمد بن صالح العثیمین اور علامہ ڈاکٹر صالح الفوزان کے فتوے سے بھی ماخوذ ہے جس میں اذان اور اقامت کے علاوہ بیرونی لاڈ سپیکر استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.