متاثرین رنگ روڈ نے منصوبہ کو”رانگ روڈ“ قرار دے دیا، سکینڈل میں بڑے پردہ نشینوں کے نام افشاں کر دیے

راولپنڈی (آن لائن)متاثرین رنگ روڈ نے راولپنڈی کے دیرینہ اور تاریخی منصوبے”رنگ روڈ“ کو”رانگ روڈ“ قرار دے دیا ہے اور رنگ روڈ سکینڈل میں بڑے پردہ نشینوں کے نام افشا ں کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین رنگ روڈ کو تحقیقات سمیت عمل میں بطور فریق شامل کیا جائے راولپنڈی سے اٹک تک تمام اراکین اسمبلی اور

وفاقی و صوبائی وزراسے استعفے لے کر انہیں شامل تفتیش کیا جائے سکینڈل کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل یا پارلیمانی کمیشن بنایا جائے متاثرین نے 5بڑے مطالبہ کا اعلان کرتے ہوئے پہلے دن سے سکینڈل کی تحقیقات اور اس پر قائم ہونے والی تمام کمیٹیوں اور رپورٹس کو یکسرمستردکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہمیں قومی احتساب بیورو،ایف آئی اے،اینٹی کرپشن، پولیس اورکسی انتظامی کمیٹی پر کوئی اعتماد نہیں متاثرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے پانچوں مطالبات کو فوری منظور نہ کیا گیا تو پھر دمام دم مست قلندر ہو گا ان مطالبات کا اعلان رنگ روڈ متاثرین کی ایکشن کمیٹی کے سربراہ عبدالعزیز کیانی،نے سید فیاض حسین گیلانی،کوآرڈی نیٹرز ملک محمد ندیم اور محمد مسکین کے ہمرا ہ اتوار کے روز راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے اپنے مطالبات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رنگ روڈ کے حوالے ہونے والی تحقیقات سمیت ہر عمل میں متاثرین کو بطور بنیادی فریق شامل کیا جائے،اراضی کی قیمتوں کا تعین اور رنگ روڈ کا نقشہ از سر نو مرتب کیا جائے،رنگ روڈ کی حدود میں آنے والے تمام انتخابی حلقوں سے منتخب اراکین اسمبلی کو شامل تفتیش کیا جائے تحقیقات کے حوالے سے انتظامیہ کی بجائے اعلیٰ سطح کا عدالتی یا پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس تمام معاملے کی درست اور

غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور نئی حکمت عملی اس کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں تشکیل دی جائیں سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد محمود اور سابق لینڈ کلکٹروسیم تابش کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے اور ان سے میرٹ پر تفتیش کر کے تمام راز اگلوائے جائیں انہوں نے کہا کہ منصوبے پر

عملی کام کے آغاز سے اس کے گھناؤنے انجام تک پٹواری اور اس کے منشی سے لے کر کمشنر تک اور منتخب اراکین اسمبلی سے لے کر مقامی وفاقی و صوبائی وزرا تک رنگ روڈ کی زد میں آنے والے جدی اراضی کے مالکان، کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کومسلسل ذلیل کیا گیا اور کسی جگہ شنوائی نہ ہوئی انہوں نے اس حوالے

سے پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے علاوہ وزیر اعظم شکایات سیل کے ملک کاور کا بطور خاص شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے متاثرین کی آواز کو وزیر اعظم عمران خان تک پہنچایا اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اگر فوری نوٹس نہ لیتے تو مقامی منتخب قیادت

اور انتظامی افسران مقامی افراد کی زمینیں اونے پونے داموں ہڑپ کر جاتے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اس پہلو سے بھی تحقیقات کروا لیں کہ متاثرین رنگ روڈ میں ایک بھی سیٹھ اور پراپرٹی ٹائیکون شامل نہیں ہے اس کے باوجود چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کی آبائی اور جدی زمینوں کوڈیڑھ سے اڑھائی لاکھ روپے کنال جبکہ اہم

شخصیات اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو30لاکھ سے1کروڑ روپے کنال کے حساب سے ادائیگیاں کی گئیں انہوں نے الزام لگایا کہ ہماری جدی اور آبائی زمینوں پر وفاقی وصوبائی وزرا اور راولپنڈی سے اٹک تک منتخب اراکین اسمبلی نے انتظامی افسران کے ذریعے گھپلے کئے انہوں نے کہا کہ اب معاملہ وزیر اعظم کے نوٹس میں آنے کئی

نام نہاد چوہدری اس کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں انہوں نے موجودہ تحقیقات اور تحقیقاتی کمیٹیوں پر مکمل عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قومی احتساب بیورو،ایف آئی اے،اینٹی کرپشن، پولیس اورکسی انتظامی کمیٹی پر کوئی اعتماد نہیں وزیر اعظم فوری طور پر جوڈیشل یا پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں اور پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں کو بھی برابری کی سطح پر شامل کیا جائے اور وزیر اعظم خود تمام معاملات کی نگرانی

کریں انہوں نے کہا کہ اس بڑے مالیاتی اور لینڈ سکینڈل میں کمشنر راولپنڈی اور اٹک و راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنروں سمیت چند انتظامی افسران کی قربانی دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا یہ ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کے بس کی بات نہیں اس میں پس پردہ بڑے ناموں پر ہاتھ ڈالنا تحقیقات کا اصل ثمر ہو گا انہوں نے خبردار کیا گیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پھر دمام دم مست قلندر ہو گا اور حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *