وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ میں  نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/اے پی پی  ) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ معیشت کی بحالی کیلئے شارٹ اور لانگ ٹرم پلان تیار کر لیا، مہنگائی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔ نجی ٹی وی ٹوئنٹی فور کے مطابق کوشش ہو گی کسان خود منڈیوں میں آکراپنی اجناس فروخت کرے۔ پریس کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے

اس بار سخت رویہ اپنایا۔ ہم فوڈ سرپلس ملک نہیں بلکہ غذائی خسارے والا ملک بن گئے ہیں،اگلےسال 5فیصد گروتھ ہوسکتی ہےاور اس سے اگلےسال 6فیصد ہوسکتی ہے۔ہماری تمام ترتوجہ معیشت کی گروتھ پر ہو گی، ہماری معاشی ترقی دیرپانہیں رہتی،عام آدمی کیلئےبھی اسکیمیں لیکرآئیں گےجس میں روزگارپروگرام بھی ہوگا۔ ہمارے پاس جب بھی ڈالرختم ہوا ہمیں بحران کا سامنا کرنا پڑا، ہمیں برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا تا کہ ڈالرکی کمی نہ ہو، اوور سیز پاکستانی عمران خان سے پیار کرتے ہیں، عمران خان کی وجہ سے ملک میں پیسہ بھیج رہےہیں۔شوکت ترین نے مزید کہا کہ جب تک ایف بی آر کا ریونیو نہیں بڑھے گا حکومت مقروض ہی رہے گی. ہمیں ہرحال میں ریونیو بڑھانا ہے، ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنا ہو گا۔ 42 فیصد ملکی دولت بینکوں سےباہرہے، پورے ملک سے پیسے اکٹھے ہوتے ہیں اور 9 شہروں میں خرچ ہوجاتےہیں، امیر اور غریب کیلئے یکساں گروتھ ہونی چاہیے۔دوسری جانب
وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین نے کہا ہے کہ رواں مالی سال 21-2020 کے معاشی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.94 فیصد تک بڑھی ہے۔ اتوار کو زوم پر ملک کی معاشی صورتحال اور اس حوالہ سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑا تھا کیونکہ معاشی طور پر مشکل حالات تھے۔ کورونا وائرس کی وبا شروع ہو گئی تھی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چند ٹارگٹڈ اور اہم شعبوں میں کام کیا ہے جن میں زراعت، صنعت اور ہاؤسنگ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات نے ملک کی معاشی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ قابل قدر ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں اور پوری ٹیم مباکباد کی مستحق ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *