بھارتی سائنسدانوں کی “کونج” پاکستان میں لاپتہ ہو گئی‎‎

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انڈیا اور پاکستان میں سائنسدان اور حکام ایک ایسی لاپتہ کونج کی تلاش میں ہیں جس نے انھیں پرندوں کی اس قسم کے موسم گرما اور موسم سرما میں ہونے والے سفر کے بارے میں پہلی بار بنیادی اور ٹھوس معلومات کی فراہمی میں مدد دی ہے۔یہ تحریر محمد زبیر خان نے بی بی سی پر لکھی، انہوں نے اپنی تحریر

میں لکھا کہ انڈیا وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ دہرہ دون کے سائنسدانوں سے اس کونج کا رابطہ رواں برس یکم اپریل کو اس وقت منقطع ہو گیا تھا جب وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجود تھی۔ تاہم انڈین سائنسدان اور بلوچستان کے محکمہ جنگلی حیات کے افسران پُرامید ہیں کہ لاپتہ ہونے والی کونج محفوظ ہو گی اور آنے والے موسمِ سرما میں ایک بار پھر انڈیا کا رُخ کرے گی۔وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ دہرہ دون کے ماہرین نے سنہ 2020 میں موسمِ سرما گزارنے کے لیے آنے والے مہمان پرندوں کی ہائی پاور ٹرانسمیشن لائنز سے ٹکرا کر ہلاکتوں کے حوالے سے ایک تحقیق شروع کی تھی اور اسی تحقیق کے لیے انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے واڈلا میں مارچ 2020 میں پہنچنے والی ایک مادہ کونج میں جی پی ایس ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا تھا۔کونج کو واڈلا کا نام اسی علاقے کی نسبت سے دیا گیا تھا۔وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ دہرہ دون کے ڈاکٹر سریش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سال سے زائد عرصہ تک ٹرانسمیٹر کی مدد سے ہر دس منٹ بعد واڈلا کے سفر کی معلومات حاصل کی جاتی رہی ہیں جس سے پہلی مرتبہ کونجوں کی سرمائی نقل مکانی کے حوالے سے بنیادی اور اہم معلومات حاصل ہو سکی ہیں۔ڈاکٹر سریش کا کہنا ہے کہ ’واڈلا اس عرصے میں موسم سرما اور گرما اپنی روایتی آماجگاہوں میں گزارنے کے بعد مخصوص

راستوں پر سفر کرتی رہی اور جب وہ رواں برس اپریل میں صوبہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں مانی ہور کے مقام پر موجود تھی تو اس کی آخری لوکیشن ہمیں موصول ہوئی جس کے بعد رابطہ ختم ہو گیا۔‘تاہم ڈاکٹر سریش پُرامید ہیں کہ واڈلا کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ ’اگر وہ شکار ہوئی ہوتی، کسی شکاری کے ہتھے چڑھ گئی ہوتی،

پنجرے میں ہوتی تو پھر بھی یقیناً اسے حادثے کے مقام سے کسی طریقے سے منتقل کیا گیا ہوتا اور اس عمل اور اس کے اپنے اڑنے کی رفتار میں فرق سے ہمیں سمجھ آ جاتا کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوئی ہے۔‘ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر کونج پر نصب ’ٹرانسمیٹر میں کوئی خرابی پیدا ہوئی ہے اور وہ لوکیشن نہیں دے رہا۔ دوسرا یہ

بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایسے علاقے سے گزر رہی ہو یا ایسے علاقے میں موجود ہو جہاں اتنے دن گزرنے کے بعد بھی سگنلز دستیاب نہ ہوں۔‘انڈیا وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ دہرہ دون کے سائنسدانوں سے واڈلا نامی کونج کا رابطہ رواں برس یکم اپریل کو منقطع ہو گیا تھابلوچستان کیمحکمہجنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر شریف الدین بلوچ

کے مطابق ساحلی جھیل مانی ہور کونج سمیت دیگر مہمان پرندوں کے لیے اہمیت کا حامل مقام ہے۔ ’مہمان کونجیں ہر سال اس راستے سے گزرتی ہیں اور گذشتہ اور رواں سال ہم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے سخت ترین اقدمات کر رکھے تھے۔‘ان کا یہ بھی یہی کہنا ہے کہ ’اس بات کا

امکان انتہائی کم ہے کہ واڈلا کسی غیر فطری حادثے کا شکار ہوئی ہو۔ ویسے بھی اس علاقے میں ان کونجوں کے قیام کا وقت بہت کم ہوتا ہے۔‘شریف الدین بلوچ کے مطابق بھی ’زیادہ امکان اس بات ہی کا ہے کہ اس کا ٹرانسمیٹر کام نہیں کر رہا ہو گا۔ ایسا ہونا زیادہ عجیب بات بھی نہیں۔‘ انھیں امید ہے کہ انڈیا کے سائنسدان رواں برس اکتوبر

میں واڈلا کو ایک بار پھر دیکھ سکیں گے۔ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق واڈلا سے حاصل ہونے والا ڈیٹا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ’اس سے ہمیں اس کے روٹ کے علاوہ کچھ بنیادی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو اس سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئی تھیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگا لیں کہ اگر برسوں پہلے ہمارے پاس جدید

ٹیکنالوجی ہوتی اور اس کی مدد سے سربیائی کونجوں کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی ہوتیں تو پاکستان اور انڈیا کے علاوہ پورے خطے میں ان کا تحفظ ممکن ہو سکتا تھا۔‘ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق کونجوں کی پہلی ٹریکنگ 20 سال قبل جاپان کے ایک سائنسدان نے کی تھی مگر اس وقت اتنی جدید ٹیکنالوجی دستیاب نہیں تھی۔ان

کے مطابق ’ہماری ٹریکنگ سے پہلی مرتبہ پتا چلا ہے کہ کونجیں اپنے سفر کے دوران ایک دن میں 300 سے 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں۔ موسم اور وقت کے لحاظ سے وہ اپنا سفر صبح آٹھ سے نو بجے شروع کرتی ہیں اور شام چھ سے ساڑھے چھ بجے تک وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہیں جبکہ رات کو وہ سفر نہیں کرتیں۔ڈاکٹر

سریش کے مطابق ’رات یہ پرندے پانی میں گزارتے ہیں جو زیادہ گہرا نہیں ہوتا جبکہ سفر کے دوران خوراک کے لیے وہ نمی والے کھیتوں جیسے مقامات میں قیام کرتی ہیں۔‘ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق 2020 میں انڈیا سے قازقستان واپسی کے سفر کے دوران اس کونج نے 12 دن میں 4500 کلومیٹر کا سفر طے کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ

موسم اور وقت کے لحاظ سے ان کے سفر کے دورانیے اور مسافت میں بھی فرق دیکھا گیا۔ ’اگر اس نے اپنے بریڈنگ پوائنٹ کے مقام قازقستان جانا ہے تو اس حساب سے صبح سفر اور شام کے ٹھکانے کا وقت رکھتے ہیں تاہم قزاقستان جہاں دن لمبے ہوتے ہیں وہاں ان کے سفر کا دورانیہ بھی لمبا ہوتا ہے۔‘ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق

2020 میں انڈیا سے قازقستان واپسی کے سفر کے دوران اس کونج نے 12 دن میں 4500 کلومیٹر کا سفر طے کیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ 2020 میں اپنے سرمائی ٹھکانے یعنی انڈیا سے کونجوں کے سفر کا آغاز 10 اپریل کو ہوا تھا اور وہ 15 دن میں اپنے بریڈنگ پوائنٹ یعنی قازقستان پہنچ گئی تھیں جہاں یہ اپریل سے لے کر ستمبر کے آخر

تک قیام کرتی ہیں اور پھر دوبارہ انڈیا کی طرف سفر شروع کرتی ہیں۔’ہمارے پاس موجود ڈیٹا کے مطابق واڈلا نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 29 ستمبر 2020 کو انڈیا کی طرف اپنا سفر شروع کیا تھا اور وہ 12 دن میں ساڑھے چار ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے دس اکتوبر کو انڈیا پہنچ گئی تھی۔ رواں برس کے سفر کے بارے میں ڈاکٹر

سریش کمار کا کہنا تھا کہ 2021 میں واڈلا نے انڈیا سے قازقستان کی طرف سفر معمول سے چند دن قبل یعنی 29 مارچ کو شروع کیا لیکن دو دن بعد ہی اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ موسم کی تبدیلی کے باعث اس برس واڈلا اور دیگر کونجوں نے معمول سے پہلے واپسی کا سفر شروع کیا۔ ’پرندوں کی ان معاملات میں حس بہت

تیز ہوتی ہے۔‘ڈاکٹر سریش کمار کے مطابق جہاں اب تک واڈلا پر نصب ٹرانسمیٹر کی مدد سے ’ہم نے اس کے بارے میں بہت کچھ جانا وہاں بہت کچھ ایسا ہے جو ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا تھا۔‘’ہمیں ابھی درست معلومات نہیں ملی تھیں ہیں کہ بریڈنگ سیشن کے دوران وہ کتنے بچے دیتی ہیں۔ واڈلا کے حوالے سے ہمارا ارادہ تھا کہ ہم

قازقستان کے سائنسدانوں سے رابطہ کر کے اس بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے مگر کورونا کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘ڈاکٹر سریش کا کہنا تھا کہ ایک سیزن سے کچھ زیادہ عرصہ تک کی ٹریکنگ کے بعد ہمیں یہ بھی پتا چلا ہے کہ یہ عموماً اپنے راستے تبدیل نہیں کرتیں۔ ان کا روٹ اور ٹھکانہ ایک ہی رہتا ہے جس سے ہمیں یہ سمجھ آ رہا ہے کہ انھیں محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں ان کی آمجگاہیں محفوظ رکھنا  ہوں

گی۔‘ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واڈلا کے علاوہ نو اور کونجوں میں بھی جی پی ایس سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ تھا مگر کورونا کی صورتحال کے باعث مزید کونجوں میں یہ سسٹم نصب نہیں کیا جا رہا اور جب بھی حالات بہتر ہوں گے تو یہ سسٹم نصب کر دیے جائیں گے جس سے ان کونجوں کے بارے میں مزید معلومات دنیا کو دستیاب ہو سکیں گی۔فی الحال تو ڈاکٹر سریش کو اکتوبر کا انتظار ہے تاکہ ان کی گجرات کی جھیلوں پر واڈلا کو ایک بار پھر دیکھنے کی امید پوری ہو سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.