انگلینڈ کی طرف سے کھیلنے کی خبریں محمد عامر کا موٴقف سامنے آگیا، تما م حقائق بتا دیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی سابق فاسٹ بائولر محمد عامر نے ایک انٹرویو میںانگلینڈ کی نمائندگی کرنے کے حوالے سے خبروں کی تردید کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے میں صرف پاکستان کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی ہے کسی دوسرے ملک کی نمائندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انکا کہنا تھا کہ میرے متعلق میڈیا میں کچھ خبریں زیر گردش ہیں کہ میں انڈین پریمئیر لیگ کھیلنے جارہا ہوں

مجھے نہیں پتہ کے لوگ کیسے اس طرح کی افواہیں پھیلاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا ۔ میں یہ کلیئر کر دوں میں کسی ملک کی پریمیئر لیگ نہیں کھیل رہا اور نہ کوئی دلچسپی ہے ۔ سابق فاسٹ بائولر محمد عامر کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ نرجس برطانوی شہری ہیں اور اسی لئے میرے پاس وہاں کا ریزیڈنس کارڈ ہے ، اگر آپ ماضی میں دیکھیں تو ہمارے کھلاڑیوں کے پاس برطانیہ کا پاسپورٹ تک تھا۔واضح رہے کہ اس حوالے سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سے ہی انگلینڈ میں رہ رہے ہیں اور اب انہوں نے شہریت کیلئے درخواست بھی دیدی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر نے انگلینڈ کی شہریت کیلئے درخواست دیدی ۔ اگر انہیں انگلینڈ کی شہریت مل جاتی ہے ، تو ان کیلئے عالمی کرکٹ کے کئی راستے کھل جائیں گے۔ انگلینڈ کی کاونٹی کرکٹ کے علاوہ وہ دنیا کی سب سے بڑی کرکٹ لیگ آئی پی ایل میں بھی کھیل پائیں گے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اگر قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر محمد عامر کو انگلینڈ کی شہریت مل جاتی ہے تو وہ سابق فاسٹ باؤلر اظہر محمود کی آئی پی ایل میں حصہ لے سکتے ہیں جنہوں نے بھارتی لیگ میں متعدد میچ کھیلے ہوئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق محمد عامر نے جب سے ریٹائرمنٹ لیا ہے ، فیملی کیساتھ انگلینڈ میں ہی رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے انٹرویو میں بھارتی کرکٹ کی تعریف کی۔ایک انٹرویو میں عامر نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں کو انتہائی کم تجربہ پر ہی انٹرنیشنل ڈیبیو کرایا جارہا ہے۔ پاکستانی سلیکٹرز کو دوسری مضبوط ٹیموں سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ بھارت، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کو دیکھئے، وہ کس طرح کے کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں لارہے ہیں ۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت، انگلینڈ، نیوزی لینڈ کے کے کھلاڑی انٹرنیشنل کرکٹ میں کھیلنے کیلئے بالکل تیار ہیں۔ وہ اس لئے کیونکہ انہوں نے جونیئر اور گھریلو سطح پر کافی کرکٹ کھیلی ہے ۔ جب ان کا سلیکشن ہوتا ہے تو وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کچھ انہوں نے گھریلو کرکٹ سے سیکھا ہوتا ہے ان کا مظاہرہ وہ بین الاقوامی سطح پر کرتے ہیں ۔عامر نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت یہ ہورہا ہے کہ کھلاڑی سوچ رہے ہیں کہ وہ قومی کوچ سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے سیکھیں گے۔ آپ آئی پی ایل میں بھارتی بیٹسمین ایشان کشن، سوریا کمار یادو اور کرنال پانڈیا کو دیکھئے، وہ انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے بالکل تیار نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے جب ڈیبیو کیا تو لگا ہی نہیں انہیں ٹیم کو کوچ سے زیادہ مدد کی ضروت ہے ۔ انہوں نے کافی وقت تک گھریلو کرکت کھیلی ہے اور آئی پی ایل کے آنے سے انہیں کافی مدد ملی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *