اولاد نے گھراور جائیداد بیچ کر ہر ایک نے اپنا اپنا حصہ لے لیا لیکن ما ں کسی کے حصے نہ آئی،سو شل میڈیا پر وائر ل ویڈیو نے سب کو آبدیدہ کر دیا

مکوآنہ (این این آئی )فیصل آباد کی رہائشی ایک 80 سالہ بزرگ خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی جسے دیکھ کر ہر صارف آبدیدہ ہو گیا۔ ممتاز بیگم نامی خاتون نے اپنی دْکھی روداد سناتے ہوئے کہا کہ چالیس سال پہلے شوہر کا انتقال ہوا تو اولاد نے گھراور جائیداد بیچ کر ایسے منہ پھیرا کہ دوبارہ کبھی مْڑ کر بھی مجھے نہیں دیکھا۔تین چار روز قبل مذکورہ خاتون سخت سردی میں دکانوں کے

باہر سوئی ہوئی ملیں تو ایک خان صاحب انہیں اپنے گھر لے آئے۔ جنہوں نے ان کی پوری کہانی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔ سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں 80 سالہ خاتون نے بتایا کہ ہم فیصل آباد میں رہتے تھے اور وہیں ہم نے اپنی کوٹھی بھی بنائی تھی۔ لیکن اْس کے بعد میرے شوہر کا اسلام آباد میں تبادلہ ہو گیا۔اپنی اولاد سے متعلق بتاتے ہوئیخاتون نے کہا کہ مجھے اپنے بیٹوں کا کچھ علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ میرے ایک بیٹے کا نام توقیر، ایک کا نام توصیف اور تیسرے بیٹے کا نام نوید ہے۔ خاتون نے بتایا کہ میرے سارے بیٹے شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیںلیکن میں نے اپنا کوئی پوتا یا پوتی نہیں دیکھی۔ میرے شوہر کا چالیس سال قبل انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد میں نے اپنے بچوں کو سنبھالا اور انہیں پڑھایا لکھایا۔میرا ایک بیٹا انجینئیر ، ایک ڈاکٹر اور ایک پروفیسر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرا خالہ زاد بھائی جس کا نام صفدر ہے، وہ پی آئی اے میں کیپٹن ہے۔ویڈیو میں موجود ایک شخص نے بتایا کہ خاتون کا بارہ مرلے کا ایک تین منزلہ گھر تھا، جس کے نیچے دکانیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون کا ایک بیٹا کینیڈا میں ہے، ان کاداماد پوسٹ آفس میں اچھے عہدے پر تعینات ہے ، ایک مرتبہ میں ان کے داماد اور بیٹی کو زبردستی یہاں ان کے پاس لایا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم کچھ کریں گے لیکن وہ پھر بھاگ گئیاور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے۔ان کا ایک بیٹا سعودی عرب میں بھی ہے۔ خاتون نے بتایا کہ میرے سارے بیٹے میری جائیداد بیچ کر سب کچھ اپنے ساتھ لے گئے اور باہر چلے گئے ،مجھے تو اتنا بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ خاتون سے عمر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب پاکستان بنا میں دس سال کی تھی ۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے بتایا کہ خاتون کی عمر 80 سال سے زائد ہے اور انہیں ایک دکان کے باہر سے سخت سردی میں میرا ملازم اْٹھا کر اپنے گھر لے آیا۔ویڈیو بنانے والے شخص نے اس ویڈیو کو شئیر کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ویڈیو ان کے بچوں تک پہنچ جائیں۔ میری ان کے بچوں سے گزارش ہے کہ وہ مہربانی فرمائیں اور اپنی والدہ کو یہاں سے آ کر لے جائیں اور جنت کمائیں۔ بجائے اس کے کہ ان کی والدہ در در کی ٹھوکریں کھائیں

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.