پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کی نوید سنا دی گئی

کراچی(آن لائن) ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ہونے والی بہتری کے باوجود عوامی توقعات کے برخلاف گھریلو برقی آلات اور مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہونے کا امکان عالمی اور مقامی مارکیٹ میں خام مال کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے باعث نہ ہونے کے برابر ہے۔بالخصوص دھاتوں

کی قیمت بڑھنے سے پاکستان کی آٹو اور ہوم اپلائنسز کی صنعت کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاگت کا اثر صارف کو منتقل کیے جانے کی وجہ سے صارفین اور انڈسٹری دونوں مشکلات کا شکار ہیں جبکہ محصولات کی شکل میں حکمت کا شیئر بڑھتا جارہا ہے اس صورحال میں حکومت درآمدی خال مال پر عائد ڈیوٹی ٹیکسز کی شرح کم کرکے صارفین کو ریلیف فراہم کرسکتی ہے۔ ہوم اپلائنسز اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والے اہم میٹریلز کی قیمتوں میں اضافہ کے رجحان پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ستمبر 2020سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 11فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور روپے کی قیمت 167روپے سے کم ہوکر 151روپے کی سطح پر آگئی ہے، تاہم اس دوران اہم خام مال اور دھاتوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جن میں اسٹیل مصنوعات سرفہرست ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق ای جی اور کولڈ رولڈ کوائل کی قیمتیں جو ستمبر 2020میں 151 اور160 روپے فی کلو تھیں اب بڑھ کر 349 اور331 روپے فی کلو کی سطح پر آگئی ہیں جو بالترتیب 118,119فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہیں، دوسری جانب ہاٹ رولڈ کوائل کی قیمت ستمبر 2020میں 111روپے فی کلو گرام سے بڑھ کر 290روپے کی سطح پر آگئی ہے جو 161 فیصد اضافہ بنتا

ہے۔ایس ایم انجینئرنگ کے سی ای او اشتیاق صدیقی کے مطابق خام مال کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ دنیا بھر میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کو قیمت بڑھانے پر مجبور کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی چیلنجز کے باوجود نمو پانے والی چند صنعتوں میں سے ایک آٹو انڈسٹری کو اس ممکنہ بحران سے نکالنے کا ایک ممکنہ اور موثر حل

حکومت کی معاونت ہے جو وہ ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی لاکر فراہم کرسکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے صنعتوں کے لیے یہ معاونت حکومت کے لیے بھی سود مند ہے ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی لاکر ایک جانب گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے حکومتی محصولات کو بھی موجودہ سطح پر برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.