مشرق وسطیٰ تنازعہ’ثالثی کیلئے کوئی تیار نہیں اقوام متحدہ اور او آئی سی بے نقاب

غزہ (این این آئی)اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین خونریز لڑائی جاری ہے اور جنگ بندی کا کوئی فوری امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔ بین الاقوامی رہنما ء فوری جنگ بندی کی اپیلیں کر رہے ہیں لیکن ثالث کا کردارادا کرنے کوکوئی تیار نہیں۔اسرائیل کی جانب سے غزہ میں دہشت گردی کے باوجود امریکہ کا کھل کر اسرائیل کا ساتھ دینا ثابت کرتا ہے کہ امریکہ

دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے۔سنگین صورتحال کے باوجود اقوام متحدہ ایک غلام ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جبکہ او آئی سی کی حیثیت ایک مردہ گھوڑے کی سی ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں۔اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سب سے پرانے ایشو ہیں جنہیں آج تک حل نہیں کیا گیا ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انٹونیو گوٹیرش نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رکھا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان کوکوئی طاقت اہمیت دیتی ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق وہ اور ان کا ادارہ فوری جنگ بندی کے لیے فریقین کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہیں اور انہوں نے حکومت اسرائیل اور حماس تنظیم سے ثالثی کی کوششوں کو تیز اور کامیاب بنانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل میں امریکی رکاوٹوں کی وجہ سے اسرائیل فلسطین تنازعے کے سفارتی حل میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس وقت سلامتی کونسل کی سربراہی چین کے ہاتھ میں ہے، جس نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا کسی بھی قرار داد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکا ماضی میں ہر اس قرارداد کو ویٹو کرتا آیا ہے، جو اسرائیل کے خلاف تھی۔اسرائیل اور امریکا مشرق وسطیٰ میں قریبی اتحادی ہیں جبکہ اسرائیل کے فوجی سازو سامان میں امریکا کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ

جب بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کوئی تنازعہ پیدا ہوا ہے، امریکا اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا ہے۔اسرائیل اور امریکا کے مابین دوستانہ تعلقات کا عروج سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں دیکھنے میں آیا، جب تمام دنیا کے بڑے ممالک کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا۔

یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جسے اسرائیل میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا، جو بری طرح ناکام ہوا۔ یہ منصوبہ زیادہ تر اسرائیل کے فائدے میں تھا اور اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا لازمی حصہ تسلیم کیا گیا تھا۔حالیہ تنازعے میں بائیڈن انتظامیہ فی الحال خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اوباما یا پھر ٹرمپ

انتظامیہ کے برعکس لگتا یوں ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے یہ مسئلہ سرفہرست یا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ امریکا کا اس وقت اسرائیل میں کوئی سفیر ہی موجود نہیں ہے۔عرب لیگ نے امریکا سے مشرق وسطیٰ امن عمل میں مزید موثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کسی نئے امن منصوبے کے ساتھ کب

تک سامنے آتی ہے۔ فارن پالیسی کے لحاظ سے بائیڈن انتظامیہ کی توجہ ایران اور افغانستان پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اسرائیلی اور فلسطینی دلدل میں براہ راست ملوث نہ ہونے کا انتخاب کیا ہے۔یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران اور اعلیٰ ترین عہدیدار یوزیپ بوریل نے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔بوریل کا کہنا تھا

کہ وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین اور روس کے ساتھ رابطوں میں ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔ مشرق وسطیٰ امن عمل میں یورپی یونین کا کبھی بھی قائدانہ کردار نہیں رہا بلکہ یورپی یونین نے ہمیشہ انسانی امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے رکھی ہے۔ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کو

امداد فراہم کرنے والی سب سے بڑی ڈونر ہے۔ اس کی طرف سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں2000ء کے بعد سے 700 ملین یورو کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔اسرائیل کے ساتھ مغربی سرحد رکھنے والے مصر کی خفیہ ایجنسیوں کے حماس کے ساتھ اچھے روابط ہیں۔ ویک اینڈ پر دو گھنٹے کی فائر بندی کے لیے ہونے والی ثالثی

کی کوششوں میں مصر نے اقوام متحدہ اور قطر کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیا۔ اس مختصر فائربندی کا مقصد غزہ کے واحد بجلی گھر کے لیے فیول فراہم کرنا تھا۔ لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی کیوں کہ اسی دوران اسرائیل نے حماس کے چیف یحییٰ السنوار کے گھر کو نشانہ بنایا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.