سندھ کے حصے کا پانی مسلسل روک کر عمران خان حکومت نے سفاکیت کی انتہا کردی

کراچی (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں پانی کی منصفانہ تقسیم میں ناکامی پر وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان کے بعد عید پر بھی سندھ کے حصے کا پانی مسلسل روک کر عمران خان کی حکومت نے سفاکیت کی انتہا کردی ہے، میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری اپنے ایک بیان میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جان بوجھ کر سندھ میں پانی کا بحران پیدا کرنے والی پی ٹی آئی حکومت نتائج کی ذمہ دار خود ہوگی، سندھ کے حصے کا پانی روکے

جانے کی وجہ سے کراچی کے لئے پانی کی ترسیل انتہائی کم ہوچکی ہے، وفاقی حکومت کی سفاکانہ پالیسی کی وجہ سے ٹھٹہ، بدین، سجاول اور تھرپارکر کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے، پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سندھ کے حصے کا پانی 15 سے 20 فیصد تک کم کردیا، ارسا صرف واٹر اکارڈ 1991 کی طے شدہ قانونی شقوں کی نگرانی اور عملدرآمد کروانے کا ادارہ ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارسا نہ صرف اپنے بنائے ہوئے متنازع تھری ٹیئر فارمولے کے تحت صوبہ سندھ کو مستقل نقصان پہچانے کا عمل بند کرے بلکہ ارسا حکام یہ بھی واضح کریں کہ انہوں نے کس کے حکم پر غیرقانونی طور پر سندھ کے پانی کے حصے میں کمی کی، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان پانی روک کر سندھ کی زمینوں کو بنجر کرنے کی کوششوں کا سلسلہ بند کریں، دیگر صوبے سندھ کی پیروی کریں کہ جہاں کی حکومت نے موجودہ قلت کے باوجود گڈو بیراج سے بلوچستان کو پانی کی ترسیل میں کوئی کمی نہیں کی، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو طے شدہ فارمولے کے تحت پانی ملنا ان کا حق ہے جبکہ ملک کے کسی بھی صوبے کی اگر پانی کے معاملے میں حق تلفی کی گئی تو وہ آواز اٹھاتے رہیں گے، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ متنازع چشمہ جہلم لنک کینال سے ابھی بھی سندھ کے حصے کا دوہزار کیوسک پانی چوری کیا جارہا ہے، انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ارسا تونسہ پنجند اور چشمہ جہلم لنک کینالوں پر پاور پلانٹ لگانے کی این او سی دینا بند کرے، ان غیرقانونی پاور پلانٹس سے متعلق پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ تونسہ پنجند اور چشمہ جہلم لنک کینالوں پر اگر پاور پلانٹس بنے تو ان کی بنیاد پر پورے سال ان متنازع و غیرقانونی کینالوں کو کھلا رکھنے کا بہانہ مل جائے گا اس لئے غیرقانونی تونسہ پنجند لنک کینال اور متنازع چشمہ جہلم لنک کینال پر غیرقانونی طور پر پاور پلانٹ لگانے کے عمل کو فی الفور روکا جائے، انہوں نے واضح کیا کہ غیرقانونی تونسہ پنجند لنک کینال کو مسلسل کھولنا کسی صورت قبول نہیں جبکہ متنازع چشمہ جہلم لنک کینال کو بھی اس صورت میں کھولا جاسکتا ہے کہ جب کوٹڑی ڈان اسٹریم میں پانی چھوڑا جائے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ فروری تک تربیلا ڈیم کی مرمت میں تاخیر کی وجہ سے پانی کی بلاضرورت ترسیل کی گئی جس سے برسات کی وجہ سے دستیاب وافر پانی کے باوجود ڈیم نہ بھرسکا، اس موقع پر انہوں نے پانی کی قلت کے حوالے سے پیدا ہونے والے زرعی مسائل کی جانب نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ چاولوں کی کاشت کے خاص سیزن میں سندھ کے پانی کو روکنے کے پیچھے کیا سوچ کارفرما ہے، عمران خان وضاحت کریں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو پہلے ہی کپاس کی فصل میں کمی کا سامنا ہے، ایسے میں بوائی کے موقع پر سندھ کا پانی بند کرنا ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بھی تباہ کن ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.