پاکستان کے و ہ مشہوراداکار جنہوں نے اپنی اہلیہ کوحق مہرمیں صرف 500روپے دیئے

مکوآنہ (این این آئی )پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد کی تاریخ تقریبا 125 سال پرانی ہے۔ شہر کے مرکز میں واقع گھنٹہ گھر دنیا بھر میں اس شہر کی پہچان ہے۔ گھنٹہ گھر کے عقب میں انگریز دور میں تعمیر شدہ گمٹی اور قیصری دروازے کی تاریخی عمارتیں ہمارا ثقافتی ورثہ ہیں۔ شہر کی خوبصورت اور تاریخی عمارتیں ہیں اس فیصل آباد کا ہی ایک نوجوان اداکار، ہدایت کار و پروڈیوسر نبیل کو زیادہ تر لوگ مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن انہیں شہرت سنجیدہ کرداروں کی وجہ سے ملی۔نبیل احمد پنجاب کے شہر فیصل آباد میں

پیدا ہوئے مگر پھر کراچی منتقل ہوگئے اور بعد ازاں اداکاری میں خود کو منوانے کی کوشش کی۔نبیل احمد کا پیدائشی نام ندیم ظفر ہے جب کہ انہیں شوبز کی دنیا میں نبیل ظفر نے این این ائی سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کیریئر میں دوسرے اداکاروں کے مقابلے میں کم ڈراموں میں اداکاری کی مگر انہیں شہرت زیادہ کام کرنے والوں سے بھی زیادہ ملی۔نبیل احمد نے سال 2000 میں شادی کی تھی اور شادی کے بعد وہ کچھ عرصہ اداکاری سے بھی غائب رہے تھے، انہیں 4 بچے ہیں اور وہ ماضی کی طرح اب بھی کچھ ہی ڈراموں میں دکھائی دیتے ہیں۔نبیل ظفر کو زیادہ تر لوگ ان کے مقبول کامیڈی ڈرامے ‘بلبلے’ کی وجہ سے جانتے ہیں مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کے مقبول ترین ڈراموں میں شمار ہونے والے ڈراموں ‘دھواں’ اور ‘دن اور دلدل’ میں بھی کام کیا۔اور حیران کن طور پر ان کے پی ٹی وی کے مقبول ڈراموں کو دیکھ کر ہی برطانیہ کی ریاست اسکاٹ لینڈ میں رہنے والی پاکستانی نڑاد لڑکی ان پر فدا ہوئیں اور ان سے رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں۔حال ہی میں نبیل ظفر اہلیہ سلمیٰ ظفر کے ہمراہ آج ٹی وی کے شو ‘دی کپل شو’ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے نہ صرف پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی بلکہ انہوں نے ذاتی زندگی پر بھی مداحوں کو آگاہ کیا۔پروگرام میں بات کرتے ہوئے نبیل ظفر نے بتایا کہ وہ آج تک اپنی اداکاری کے کام سے 75 فیصد غیر مطمئن ہیں، انہیں لگتا ہے کہ انہوں نے اچھا کام نہیں کیا۔نبیل ظفر کا کہنا تھا کہ سال 2000 میں انہوں نے اداکاری سے کچھ وقت کے لیے وقفہ لیا، کیوں کہ اس وقت ان کی شادی ہوئی اور دیگر کچھ معاملات بھی تھے۔نبیل کے مطابق سال 2006 کے بعد انہوں نے اداکاری کے علاوہ ہدایت کاری اور پروڈکشن کا بھی فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے انہوں نے 2009 میں اپنے دو قریبی دوستوں کے ساتھ مل کر ‘بلبلے’ بنایا اور انہیں یقین تھا کہ وہ کامیاب جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ‘بلبلے’ کا اسکرپٹ 2006 میں ہی ان کے دوست علی عمران نے لکھ لیا تھا مگر اس پر انہوں نے کام 2009 میں شروع کیا اور ابتدائی طور پر ‘بلبلے’ میں حنا دلپذیر کا کردار نہیں تھا مگر بعد میں ان کے کردار کو مستقل کردار میں تبدیل کیا گیا۔نبیل نے بتایا کہ جب ‘بلبلے’ کی شوٹنگ جاری تھی، اس وقت عائشہ عمر ماڈلنگ اور ریڈیو میں ویڈیو جوکی (وی جے) کا کام کرتی تھیں، اس کی وجہ سے انہیں شروع میں مشکلات بھی پیش آئیں۔نبیل ظفر کے مطابق عائشہ عمر ابتدائی طور پر ‘بلبلے’ میں خوبصورت کے کردار کو غیر اہم سمجھ رہی تھیں مگر انہوں نے اس وقت ہی عائشہ عمر کو بتایا تھا کہ مستقبل میں ‘خوبصورت’ کا کردار ان کی پہچان بنے گا۔اسی پروگرام میں نبیل ظفر کی اہلیہ نے بھی شوہر کے حوالے سے باتیں کیں اور بتایا کہ انہوں نے نبیل کی پی ٹی وی کے ڈرامے میں اداکاری دیکھ کر ان سے شادی کا فیصلہ کیا تھا۔سلمیٰ ظفر کے مطابق ایک دن وہ اپنی سہیلی کے ساتھ نبیل کا ڈراما ‘دھواں’ دیکھ رہی تھیں کہ انہوں نے سہیلی کو بتایا کہ لڑکی کو شادی کرنی چاہیے تو دھواں کے داو?د سے کرنی چاہیے، ورنہ کرنی ہی نہیں چاہیے۔سلمیٰ ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے سہیلی کو وہ بات مذاق میں کہی تھی مگر پھر انہوں نے نبیل کے ساتھ شادی کرنے کی بات کو سچ ثابت کیا اور شادی کے بعد ان کی سہیلی نے انہیں اپنی بات یاد دلائی۔پروگرام میں نبیل نے اعتراف کیا کہ وہ سلمیٰ کی جدوجہد اور محبت کی قدر کرتے ہیں اور انہوں نے سلمیٰ سے شادی وقت صرف ایک شرط رکھی تھی کہ وہ شادی کے بعد سلمیٰ کی خاطر انگلینڈ نہیں جائیں گے بلکہ پاکستان میں ہی رہیں گے۔پروگرام میں نبیل نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اہلیہ کو حق مہر میں 500 روپے دیے تھے اور ان کی اہلیہ نے شادی کے بعد پاکستان میں رہنے کی شرط کو قبول کیا۔خیال رہے کہ نبیل نے 1990 کے بعد اداکاری کا آغاز کیا تھا، انہیں مقبول ڈرامے ‘دھواں’ میں داو?د کا کردار ادا کرنے کے بعد شہرت ملی جب کہ ‘بلبلے’ میں کام کرنے کے بعد وہ شہرت کی نئی بلندیوں پر پہنچے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.