سفارتخانوں سے متعلق بات براہ راست نشر نہیں ہونی چاہیے تھی وزیر اعظم نے غلطی تسلیم کر لی

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سفارتخانوں سے متعلق بات براہ راست نشر نہیں ہونی چاہیے تھی ۔لائیو ٹیلی فون کال میںسمندر پار پاکستانی کی جانب سے ایک سفارت کار کی شکایت پر وزیر اعظم نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں نے ڈپلومیسی کی حدتک زبردست کام کیا ہے، سفارتخانوں سے متعلق جوبات کی وہ براہ راست نشر نہیں ہونی

چاہیے تھی، سفارتخانوں سے متعلق جو بھی شکایات ہوں گی وہ پورٹل پردرج کرائی جا سکتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کا بڑا مسئلہ قانون کی عدم بالادستی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف نے ڈھنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔لائیو ٹیلی فون کال میں ملک میں قانون کی بالادستی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انسانی تاریخ میں ترقی پانے والی اقوام نے ہمیشہ قانون کی بالا دستی کو اہمیت دی۔انہوں نے کہا کہ ایک انسانوں اور دوسرا جانوروں کا قانون ہے، دوسرے والے قانون میں طاقت کی بالادستی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جتنا اچھا قانون ہوتا ہے کمزور اور طاقتور ایک ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب سربراہ یا طاقتور طبقہ پیسہ چوری کرتا ہے اور وہ پیسہ منی لانڈرنگ کے زریعے بیرون بھیج دیا جاتاہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سالانہ ایک ارب ڈالر غریب ممالک سے چوری ہو کر

دوسرے ممالک منتقل ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ قانون کی عدم بالادستی ہے جس کی بنیاد جسٹس منیر نے رکھی اور آمریت کی اجازت دے دی جب سے انصاف کبھی آیا ہی نہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ڈھنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے

سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو پیسے دیے تا کہ وہ چیف جسٹس کو باہر نکال سکیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک چیف جسٹس کو باہر نکالا اور مجھے فخر ہے کہ پرویز مشرف کے اقدام کیخلاف جدوجہد کی اور مجھے پابند سلاسل کردیا گیا۔انہوں نے کہاکہ دو لیڈر اپنے بڑے بڑے محلات میں رہنے کے لیے بیرون ملک فرار

ہوگئے تھے۔عمران خان نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اس لیے نیب اور عدلیہ کے معاملات اور امور میں مداخلت نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے انصاف قائم کرنے کا حکم دیا اور دراصل یہ جہاد ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 30 سال سیاسی نظام میں رہ کر ملک کو لوٹا ہے، یہ سارا مافیا ہے جو قانون کی بالا دستی نہیں چاہتا۔عمران خان نے کہا کہ چینی مافیا بھی نہیں چاہے گا

کہ ادارے فعال ہوں اور مسابقت کا ماحول پیدا ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے عوام کو میرا ساتھ کھڑا ہونا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پہلی بار قانون کی بالادستی کی جنگ اس وقت ہوئی جب مشرف نے چیف جسٹس کو نکالا، خود کو بڑے لیڈر کہنے والے ملک سے بھاگ گئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا ہوں، کرکٹ کی وجہ سے پوری

دنیا دیکھی اور وہاں کا سسٹم دیکھا، دنیا کی تاریخ ہے کہ جو قوم اوپر گئی وہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے اوپر گئی، بہترین معاشرے میں قانون غریب کو تحفظ دیتا ہے، ریاست مدینہ اس لیے عظیم ریاست بنی کیونکہ اس میں قانون سب کیلئے برابر تھا، سائیکل اور بھینس گائے چوری سے ملک تباہ نہیں ہوتا، جب ملک کاسربراہ اورطاقتورلوگ چوری کرتے ہیں توملک تباہ ہوجاتا ہے، ہر سال غریب ملکوں سے ایک ہزار ارب ڈالر چوری ہوکر امیرملکوں میں جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.