بھارت میں کورونا مریضوں کی لاشیں دریا سے برآمد علاقے میں خوف و ہراس

بہار(این این آئی)بھارت میں کورونا مریضوں کی لاشیں دریا سے برآمد ہوئیں، علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ریاست بہار میں 40 سے زائد لاشیں تیرتی ہوئی دریائے گنگا کے کنارے پر پہنچ گئیں، جنہیں اتر پردیش سے دریا میں ڈالا گیا تھا۔ حکام کا کہنا تھاکہ یہ ان کورونا مریضوں کی لاشیں ہیں جنہیں شمشان گھاٹ میں جگہ نہ ملنے پر لواحقین نے دریا میں ڈال دیا تھا۔

سات سے دس دن تک سمندر میں رہنے سے لاشیں پھول چکی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ لاشوں کی تعداد سو سے زیادہ ہوسکتی ہے۔دوسری جانب بھارت میں تیزی سے پھیلتی ہوئی مہلک کورونا وباکے باعث بھارتی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے 108اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ بھارتی وزارت داخلہ کی زیرکمان پیرا ملٹری فورسز میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سی آر پی ایف ، بارڈر سیکورٹی فورس ، سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس ، انڈو تبتین بارڈر پولیس ، ساشترا سیما بل، نیشنل سیکیورٹی گارڈ اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس سمیت تمام سات فورسز کے مجموعی طورپر 271اہلکار مہلک وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ فورسز نے ایک دن میں 763 افراد کے مہلک وائرس میں مبتلا ہونے کی بھی اطلاع دی ہے جس سے وائرس سے متاثرہ اہلکاروں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 71ہزار 295ہوگئی ہے۔ ان ساتوںمیں فورسزمیں وائرس سے متاثرہ اہلکاروںکی تعداد 9ہزار464 ہے جبکہ اب تک 61ہزار560 اہلکار صحت یاب ہو چکے ہیں۔سی آر پی ایف کے قریبا تین لاکھ 25ہزار اہلکاروں میں سے 20ہزار700سے زائد اہلکار کورونا میں مبتلا ہو چکے ہیں جن میں سے 108اہلکاروں کی مہلک وائر س کے باعث موت واقع ہو چکی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.