کورونا کتنی عمر کے افراد کو سب سے زیادہ اور سب سے کم نشانہ بنا رہا ہے؟ اسد عمر نے بتا دیا

اسلام آباد(این این آئی)این سی او سی کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کی محدود دستیابی کی وجہ سے ویکسینیشن کے لئے زیادہ سے کم عمر والوں کی طرف آ رہے ہیں۔اپنی ٹوئٹ میں سد عمر نے کہا کہ ہم لوگوں کی ویکسینیشن کیلئے زیادہ عمر والوں سے کم عمر والوں کی

طرف آ رہے ہیں،اس کی وجہ عالمی سطح پر کورونا ویکسین کی محدود دستیابی اور ملک میں ویکسینیشن کی صلاحیت ہے،مسلسل کوششوں سے ویکسین کی سپلائی اور ویکسینیشن کی صلاحیت مرحلہ وار بڑھائی جا رہی ہے،ویکسینیشن کے لئے ہماری توجہ کا مرکز معاشرے کا کمزور اور خطرے سے دوچار طبقہ ہے۔اسد عمر نے کہا کہ کورونا سے اموات کا خطرہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے، پاکستان میں 40 سال سے کم عمر افراد کی کورونا سے موت کی شرح ایک فیصد سے کم ہے، اسی طرح 41 سے 50 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 1.8 فیصد ، 51 سے 60 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 3.8 فیصد اور 61 سے 70 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 7.2 فیصد ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ 61 سے 70 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 7.2فیصد ، 71 سے 80 سال کی عمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 11.1فیصد ہے،80 سال سے زائدعمر کے لوگوں کی کورونا سے موت کی شرح 15 فیصد سے زائد ہوجاتی ہے۔ ملک میں 40 سال سے کم عمر کی آبادی 77 فیصد ہے جس کی کورونا سے شرح اموات 9 فیصد ہے، 60 سال سے زائد عمر کی آبادی صرف 7 فیصد ہے جس میں کورونا سے شرح اموات 53 فیصد ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.