عمران خان اب اقتدار چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں، حامد میر کا حیران کن انکشاف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر روزنامہ جنگ میں اپنے آج کے کالم ”عمران خان کیا چاہتے ہیں ” میں لکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کو انتخابی اصلاحات کی اتنی کیا جلدی ہے؟ پچھلے دنوں انہوں نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دی۔ اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار

کر دیا اور یہ منطق پیش کی کہ ہم الیکشن کمیشن کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ بات ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دو آرڈی نینسوں کی منظوری دیدی گئی۔ایک آرڈی نینس کے تحت الیکشن کمیشن آئندہ سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کر سکے گا اور دوسرے آرڈی نینس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق مل جائے گا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعہ طے کیا جاتا؟ آرڈیننس کے مسودوں کی منظوری نے افواہوں اور چہ میگوئیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔کچھ لوگ اپنے باوثوق ذرائع سے دعوے کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن جماعتوں کے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھانے کیلئے خود ہی اسمبلیاں توڑ دیں گے اور وقت سے پہلے انتخابات کرا دیں گے۔ اگر ان خبروں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے، ان میں حکمران جماعت کو زیادہ تر شکست کا سامنا

کرنا پڑا۔عمران خان کی حکومت انتہائی غیرمقبول ہے تو پھر وہ خود قبل از وقت انتخابات کیوں کرانا چاہتے ہیں؟ عام خیال یہ ہے کہ قبل از وقت انتخابات کا سب سے زیادہ فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہو گا تو کیا عمران خان نئے انتخابات کی افواہوں سے کسی کو ڈرا رہے ہیں یا واقعی ان کو یقین ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اختلافات سے وہ کوئی فائدہ اٹھا لیں گے؟

اپوزیشن کی قیادت میں اختلافات دن بدن سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔میڈیا میں جتنا اختلاف نظر آ رہا ہے حقیقت میں اس کی نوعیت بہت سنگین ہے کیونکہ اندر سے ان سب کو پتہ ہے کہ میڈیا میں یہ جن قوتوں کو اشاروں کنایوں میں برا بھلا کہتے رہتے ہیں، ان سے سب کی خفیہ میل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری طرف حکمران جماعت میں بھی اختلافات شدت اختیار

کر چکے ہیں اور پنجاب میں تحریک انصاف کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی میں موجود بیچینی سب کو نظر آ رہی ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت بھی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن نئے انتخابات کا زیادہ فائدہ اپوزیشن ہی اٹھائے گی۔ کیا عمران خان قبل از وقت انتخابات کے ذریعہ خود اقتدار پلیٹ میں رکھ کر اپوزیشن کو پیش کرنا چاہتے ہیں؟

عمران خان کی کابینہ میں موجود کچھ وزرا کو یقین ہے کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تیزی سے زوال پذیر معیشت ہے اور اس معیشت کو اگلے دو سال میں سنبھالنا بہت مشکل ہے۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ قبل از وقت انتخابات میں اپوزیشن اکثریت حاصل کر سکتی ہے لیکن تین سال کی حکومت کے تجربے نے انہیں آپس میں یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ

اگر شہباز شریف یا بلاول بھٹو زرداری مل کر بھی حکومت بنا لیں تو ایک سال بھی نہ چل سکیں گے۔ پہلے تو آپس میں لڑیں گے اور پھر اداروں سے لڑ جھگڑ کر ایک دفعہ پھر ہمارا راستہ ہموار کر دیں گے۔ یہ وہ سوچ ہے جو عمران خان کے ارد گرد موجود کچھ افراد کے ذہن میں ہے۔ان کا خیال ہے خارجہ پالیسی کے حوالے سے عمران خان نے کچھ اہم فیصلے

کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیصلے آنے والی حکومت کو کرنے پڑیں گے تو لوگ ہمیں یاد کریں گے۔ بظاہر تو یہ بڑی شاطرانہ سوچ ہے لیکن اس سوچ کے پیچھے سیاسی فہم و فراست نظر نہیں آتی۔ ملکی مسائل کے حل کیلئے حکومت چلانے کا انداز بدلنے کی بجائے حکومت چھوڑ کر بھاگنے کی تیاری نظر آتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.