بھارت میں کورونا وائرس کی نئی خطرناک قسم کا انکشاف

نئی دہلی،نیویارک(آن لائن، این این آئی) بھارت میں کورونا وائرس کی نئی اور خطرناک قسم کا انکشاف ہوا ہے۔ ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلے سے موجود وائرس سے پندرہ گنا زیادہ طاقتورہے۔ نئی قسم کے وائرس سے مریضوں کی حالت تین چار روز میں تشویشناک ہوجاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اے پی ویریئنٹ بھارت میں کورونا کی

نئی قسم پہلے سے موجود وائرس سے بہت زیادہ طاقتور ہے۔نئی قسم سیلولر اینڈ مالیکیولر بائیولوجی سینٹر کی تحقیق میں سامنے آئی جو بیماری پھیلانے کی 15 گنا زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ واضع رہے کہ اس سے قبل بھارت میں کورونا کی ‘ڈبل میوٹنٹ قسم’ دریافت ہوئی تھی جس سے اموات بے پناہ اضافہ ہوا۔بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 82 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 3783 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔صرف دارالحکومت دہلی میں 19 ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور 338 افراد ہلاک بھی ہوئے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے عالمی وبا کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بھارت پر موثر اور ٹھوس اقدامات پر زور دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فروری میں پابندیاں اٹھانے کے بعد کورونا کو پھیلنے کا موقع دیا گیا۔ احتیا طی تدابیر کو چھوڑ دیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کے نمائندے کا

کہنا تھا کہ بھارت میں وبا کا پیمانہ یورپ اور امریکا سے مختلف اور بڑا ہے۔ بھارت میں کورونا پھیلنے کی ایک وجہ گنجان آبادی بھی ہوسکتی ہے۔دوسری جانب بھارت میں کورونا وائرس کی ایک اور نئی خطرناک قسم کا انکشاف ہوا ہے، جو پہلے سے موجود اقسام سے پندرہ گنا

زیادہ طاقتور ہے۔بھارتی ماہرین کا کہنا تھا کہ کورونا کی نئی قسم سے مریضوں کی حالت تین چار دنوں میں تشویش ناک ہوجاتی ہے، وائرس کی نئی قسم اترپردیش میں کورونا پھیلاو کا سبب ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اموات 2 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.