خاتون کے ہاں 9بچوں کی پیدائش

بماکو ٗسٹاک ہوم(این این آئی )مالی میں خاتون کے ہاں بیک وقت 9 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مالی کی وزیر صحت نے بتایاکہ 25 سال کی ماں اور تمام 9 بچے صحت مند ہیں، خاتون کی5 بچیوں اور4 بچوں کی پیدائش مراکش کے اسپتال میں ہوئی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہے کہ عام طور پر بیک وقت 9 بچوں کی پیدائش میں متعدد

پیچیدگیوں کے باعث یہ عمل مشکل ہوجاتا ہے لیکن 25 سالہ خاتون کے ہاں ایسی کوئی پریشانی سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی حاملہ خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں اس بیماری کی منتقلی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔کیرولینسکا انسٹیٹوٹ اور پبلک ہیلتھ ایجنسی کی اس تحقیق میں ایسے نومولود بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا جن کی مائیں دوران حمل یا زچگی کے دوران کووڈ 19 سے متاثر ہوئیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگرچہ کووڈ سے متاثرہ حاملہ خواتین کے بچوں کی جلد پیدائش کا امکان ہوتا ہے مگر ان میں بیماری کی شرح نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔طبی جریدے جاما میں شائع تحقیق میں 11 مارچ 2020 سے 31 جنوری 2021 تک سوئیڈن میں لگ بھگ 90 ہزار بچوں کی پیدائش کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کے بچوں میں مختلف امراض کی شرح تھوڑی زیادہ تھی مگر اس کی وجہ قبل ا وقت پیدائش تھی اور کووڈ سے اس کا تعلق

نہیں تھا۔مجموعی طور پر 2323 بچوں کی پیدائش کووڈ 19 سے متاثرہ خواتین کے ہاں ہوئی جن میں سے ایک تہائی کے ٹیسٹ پیدائش کے فوری بعد ہوئے۔محض 21 بچوں میں پیدائش کے بعد 28 دنوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں سے اکثر میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں، چند بچوں کا علاج کووڈ 19 کی بجائے دیگر امراض کے لیے ہوا۔محققین کا کہنا تھا کہ کورونا سے متاثر حاملہ خواتین کو

نومولود بچوں سے الگ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ماں اور بچے دونوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ماں اور بچے کی نگہداشت ایک ساتھ کرنے سے بچے کی صحت کو خطرہ لاح نہیں ہوتا، یہ تمام حاملہ خواتین کے لیے اچھی خبر ہے۔یہ اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں حاملہ خواتین سے بچوں میں منتقلی کے امکان کا جائزہ لیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *