این اے 249: مفتاح اسماعیل کی درخواست منظور، پورے حلقے میں دوبارہ گنتی کا حکم‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)الیکشن کمیشن نے این اے 249 کے ضمنی الیکشن میں دوبارہ گنتی کی مفتاح اسماعیل کی درخواست منظور کرتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے مفتاح اسماعیل کی دوبارہ گنتی کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی طرف سے

لطیف کھوسہ اور (ن) لیگ کی طرف سے سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے۔واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے انتخابی نتائج کو چیلنج کیا تھا ،حلقہ این اے 249 کے ریٹرننگ آفیسر کو تحریری درخواست دے دی ہے،مفتاح اسماعیل کی جانب سےریٹرننگ آفیسر کو 3 درخواستیں دی گئی ہیں۔درخواست میں حلقہ این اے 249 کی دوبارہ گنتی کے مطالبے کے علاوہ الیکشن کمیشن سے ووٹوں سے متعلق بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں جبکہ ووٹرز کے انگوٹھوں کے نشان کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے این اے 249 میں دوبارہ گنتی کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے ۔ اپنے بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ امید ہے کہ دوبارہ گنتی میں تیر کی جیت کی صورت میں دل بڑا کرکے پی پی پی لیڈرشپ کو مبارک باد دی جائیگی۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ کراچی کے ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد فوج کو مداخلت کی دعوت دینے کا مطالبہ افسوس ناک تھا۔ فیصل کریم کنڈی نے سوال کیاکہ اگر این اے 249 میں دھاندلی ہوئی ہے تو پولنگ کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو شکایت کیوں نہیں کی گئی؟ ۔ انہوںنے کہاکہ یہ کیسی دھاندلی ہے جو اس وقت سامنے آئی جب این اے 249 میں ایک دوسری جماعت کی شکست واضح ہونے لگی۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہاکہ این اے 249 میں دھاندلی کے کسی ثبوت کے بغیر الیکشن کمیشن کا دوبارہ گنتی کا فیصلہ حیران کن ہے۔ انہوںنے کہاکہ دھاندلی کے ثبوتوں کے بغیر این اے 249 میں اگر دوبارہ گنتی ہوسکتی ہے تو پھر ہر انتخاب میں اس مثال کو بنیاد بنایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی ڈھائی سال سے دوبارہ گنتی کیلئے درخواستیں زیرالتوا ہیں، امید ہے الیکشن کمیشن ان پر بھی غور کرے گا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *