مجموعی تنخواہ اور پنشنز بلز 5سال کی حکومتی آمدنی سے تجاوز کرسکتے ہیں حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، مجموعی تنخواہ اور پنشنز بلز 5 سال کی حکومتی آمدنی سے تجاوز کرسکتے ہیں۔ جب کہ پنشن اصلاحات آئندہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے اہم شرط ہوسکتی ہے۔روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی خبر کے مطابق پاکستان کے مجموعی تنخواہ اور پنشن بل 5 سے 7 سالوں کی سالانہ مجموعی آمدنی سے تجاوز کر

جائیں گے، جب کہ اسلام آباد کو آئندہ آئی ایم ایف قرضہ اس بڑھتے اضافے کو کنٹرول کرنے کی شرط کے ساتھ ملے گا۔وزارت خزانہ میں اس حوالے سے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے، جو کہ پاکستان سیکرٹریٹ میں آئندہ بجٹ 2021-22 میں اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ پائیدار ترقیاتی پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کی دیگر شراکت داروں کے تعاون سے منعقدہ آن لائن ویبینار میں ماہرین اسی موضوع پر بحث کرتے نظر آئے۔ماہرین کا کہنا تھاکہ ملائیشیا کی طرز پر علیحدہ پنشن فنڈ کے قیام کی تجویز دی گئی۔ تنخواہ اور پنشن کمیشن کے سابق چیئرمین عبدالواجد رانا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ تنخواہوں اور پنشن بلز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور یہ 2008-09 میں مجموعی عام آمدنی کا 24 فیصد تھی لیکن اب یہ 43 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔مرکب شرح کے لحاظ سے یہ 80 فیصد تک ہوجائے گی اور نامیاتی لحاظ سے یہ 2010-11 سے 2019-20 کے دوران 142 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنشن درجہ بندی اس مدت میں 5 سے 13 ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف عوامل کے

نتیجے میں تنخواہ اور پنشن بلز کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ان میں نقصان میں چلنے والی سرکاری کمپنیوں کو شامل کیے بغیر ہیڈ کائونٹ شرح میں اضافہ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ کہ میڈیکل الائونسز کو بھی شامل کیا جائے جس سے مجموعی بل میں ناقابل یقین اضافہ ہوا۔ عبدالواجد رانا کا کہنا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد ہر صوبے کی اسٹیبلشمنٹس میں بھرتیوں کی آزادی سے

اخراجات مجموعی آمدنی کے 56 فیصد تک بڑھ گئے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ شرح سے اضافہ سے وفاقی یونٹس میں کوئی وسائل نہیں بچیں گے، جس سے ترقیاتی اور دیگر اخراجات پورے کیے جاسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ انہوں نے اہم پنشن اصلاحات کی ہیں، مثلا برطانیہ نے اصلاحات پر عمل درآمد

کرکے 3 ارب پائونڈز کی بچت کی۔اسی طرح بہت سے ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ امریکا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا نے بھی پنشن اصلاحات پر عمل درآمد کیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں انہوں نے ملائیشیا، بھارت اور فلپائن کی مثالیں دیں جہاں شراکت داری پر مبنی پنشن فنڈز قائم کیے گئے۔بھارت نے پنشن اصلاحات 2000 میں شروع کی تھیں

اور ان پر عمل درآمد 2004 میں ہوا۔ ملائیشیا نے مسلح افواج کے لیے علیحدہ پنشن فنڈ قائم کیا اور فلپائن میں کارکردگی کی بنیاد پر بونس متعارف کروائے گئے اور ان ممالک میں اصلاحات کامیاب رہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ انسانی وسائل کے ساتھ ان کی مراعات بھی جدید خطوط پر استوار کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اس ضمن میں قانونی سازی کرنے کی ضرورت ہے

تاکہ پنشنرز کے مستفید کنندگان میں تبدیلی کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2008 سے 2013 تک کے کانٹریکٹ ملازمین کو کابینہ کے فیصلے سے ریگولرائز کیا ہے حالاں کہ یہاں کانٹریکٹ بنیاد پر بھرتیوں کی ضرورت تھی جن کی تنخواہیں زیادہ رکھی جاتیں تاکہ مستقبل میں پنشن اخراجات کم کیے جاتے۔ اس موقع پر بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود کا کہنا تھا

کہ پاکستان میں پنشن اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے سیاسی آمادگی کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئی بھرتیاں متعینہ شراکت دار پنشن نظام کے تحت ہونا چاہیئے۔ موجودہ پنشن اخراجات کو یا تو زمین اور بلڈنگز سے یا قسط وار نقدی سے فنڈڈ ہونا چاہیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ او جی ڈی سی ایل میں پنشن اصلاحات پر عمل درآمد 2016 میں ہوا تھا جس سے 10 سال میں 183 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔یہی طریقہ کار دیگر سرکاری کمپنیوں،

وزارتوں اور محکموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تجزیہ کار حسن خاور کا کہنا تھا کہ متعینہ شراکت دار پنشن نظام پر عمل درآمد مشکل نہیں ہے۔ اس کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ اعتماد کی کمی کو سہارا دیا جاسکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پنشن اصلاحات پر عمل درآمد نا ہوا تو آئندہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے پنشن کے حوالے سے کوئی اہم شرط عائد ہوجائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *