مرتا کیا نہ کرتا، بشیر میمن کا حکومتی منشا پوری نہ کرنے پر ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ناطقہ بند، پنشن سے محروم ۔۔ سینئر صحافی کامران خان کا حیران کن انکشاف ‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )سینئر تجزیہ کار و اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ بشیر میمن کا جج ارشد ملک معاملہ میں حکومتی منشا پوری نہ کرنے پر ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے قبل ناطقہ بند کردیا گیا ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سینئر اینکر پرسن نے کہا ہے کہ ’’مرتا کیا نہ کرتا! بشیر میمن کا جج ارشد ملک معاملہ میں حکومتی منشا پوری نہ کرنے پر ریٹائرمنٹ سے

چند ہفتے قبل ناطقہ بند کردیا ، حکومتی مشینری لگ گئی پینشن تک سے محروم کردیا ، پینشن کا حصہ جو اکاؤنٹ میں آیا واگزار کروایا گیا جینا دوبھر کردیا اب بشیر میمن بقا کی جنگ میں مصروف ہیں ۔ دوسری جانب پی ایس کیو سی اے کی خصوصی ٹیم نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سانگھڑ و شہدادپور روڈ پر واقع گھی فیکٹری پر چھاپہ مارا اور کوالٹی چیک کرنے کے ساتھ لائسنس سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم نے سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی سانگھڑ و شہدادپور روڈ پر واقع گھی فیکٹری پرچھاپے کے دوران ریکارڈ اور لائسنس چیک کیا۔ لائسنس کی تجدید نہ ہونے پر فیکٹری انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی گئی۔سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے اس ضمن میں کہاکہ گھی فیکٹری کے لائسنس کی تجدید کیلئے پہلے ہی درخواست جمع کرواچکا ہو۔ رزق دینے والا اللہ ہے۔ مجھے کسی کا ڈر اور خوف نہیں۔پی ٹی آئی کے حکمرانوں پر الزامات عائد نہیں کیے بلکہ حقیقت بیان کی ہے۔ اگر میں نے اتنے ہی غلط اور جھوٹے الزام لگائے تو انہیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ہالا میں واقع اپنی رہائشگاہ پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن نے کہاکہ الزامات تو وہ ہوتے جو تحریری دیتا میں نے تو باتیں کی۔ اب یہ لوگ لیگل پراسیس میں آگئے ہیں اور مجھے ایک قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ ان کی مہربانی ہے میں اس کا جواب دونگا۔بشیر میمن نے واضح کیا کہ ن لیگ سے میرا کوئی تعلق نہیں، میں اب ریٹائرڈ ہو کر گھر میں بیٹھا ہوں۔ کیا ن لیگ دوبارہ پاور میں آنے کے بعد مجھے پھر نوکری دے گی۔؟ مجھے سمجھ نہیں آرہی کس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ میں نے جو کہا اس کے بارے میں میڈیا میں آکر بتاتے کہ میں نے کیا جھوٹ بولا۔ الٹا سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی برپا کردیا اور انہیں مغلظات تک دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغلظات دینے والے بچوں سے کہتا ہو کہ وہ غلیظ باتوں سے اجتناب برتیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *