جاوید لطیف کا جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)عدالت نے مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کو5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے 3 مئی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کو مجسٹریٹ صابر ڈار کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سرکاری وکیل اور جاوید لطیف کے وکلا نے دلائل دیے۔پولیس نے جاوید لطیف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی

جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو تقریباً 2 گھنٹے بعد سنایا گیا۔عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے جاوید لطیف کو 5 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ قبل ازیں ریاست مخالف بیانات پر گرفتار ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے کہا ہے کہ یہ ہے پاکستان جس میں آپ دہشتگردوں کو تو چھوڑتے ہیں لیکن پاکستان میں خرابیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو آپ غدار کہتے ہو۔ اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ جو خرابیاں کرتے ہیں ان کو آپ محب وطن کہتے ہو،چوکوں چوراہوں میں روکنا اور انتظار نہ کرنا کہ عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے ۔پاکستان میں منتخب لوگ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ،یہ اداروں میں بیٹھے لوگ وزیر اعظم کے حکم پر کیا گل کھلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اگر غلط کام کررہے تھے تو عمران خان کون ہوتا ہے کہنے والا کہ میں آپ کو انصاف دوں گا،انصاف فراہم کرنے والے ادارے ہوتے ہیں،اداروں کا یہ حال دیکھیں جس طرح مجھے روکا گیا،یہ ہے ریاستی دہشتگردی ،میں ایک عوامی نمائندہ ہوں،میں نے کہا ہے کہ پاکستان میں سمیش کرنے کی دھمکیوں کو ختم ہونا چاہیے۔دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنان اور رہنمائوں کی گرفتاری سے حکومت کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جاوید لطیف پارٹی کے مخلص ساتھی ہیں ان کی گرفتاری پر افسوس ہوا۔پارٹی کارکنان اور سیاسی رہنماں کی گرفتاریوں سے حکومت کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک اور معاشرے کو افہام و تفہیم، تحمل و برداشت اور ہم آہنگی کے جذبے آگے لے کر جاتے ہیں،امید ہے عدلیہ میاں جاوید لطیف کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *