سابق حکمرانوں نے لندن میں وہاں جائیدادیں لیں جہاں برطانوی وزیراعظم بھی نہیں لے سکتا

کوئٹہ (آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ ملک میں ایک طبقہ امیر ہوگیا، ہمارے حکمرانوں نے لندن کے امیر ترین علاقوں میں جائیدادیں بنائیں، ان کے لندن میں ان علاقوں میں محلات ہیں جہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی جائیداد نہیں خرید سکتا، مائنڈ سیٹ ہی نہیں تھا کہ بلوچستان کو ترقی دینی ہے، پاکستان جب ترقی کرے گا جب نچلہ

طبقہ اوپر آئے گا، ہیلتھ انشورنس کارڈ پاکستان کے فلاحی ریاست کی طرف پہلا قدم ہے،ہمارا نظریہ نچلے طبقے اور نظرانداز کئے گئے علاقوں کو ترقی دیناہے،پاکستان پر بوجھ قرار دئیے جانے والا بنگلہ دیش آج ہم سے آگے نکل گیاہے،بلوچستان میں سب سے زیادہ مواصلاتی نظام کی ضرورت ہے،چین نے سواارب آبادی میں 70کروڑ لوگوں کو غربت کی لکھیر سے نکالاہے،کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو ڈائریکٹ سبسڈی دی جائے گی ہم نے ڈھائی سالوں میں 33سو کلومیٹر سڑکوں کے منصوبے بنائے اور ان پر کام شروع کیا ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں کامیاب جوان پروگرام کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمدقاسم خان سوری،وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے یوتھ عثمان ڈار،صوبائی وزیر تعلیم وپاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سرداریارمحمدرند ودیگر بھی موجود تھے۔تقریب میں گورنربلوچستان امان اللہ یاسین زئی،وفاقی وزراء اسد عمر،زبیدہ جلال،مراد سعید، صوبائی وزیر سردارعبدالرحمن کھیتران،میر سلیم کھوسہ،میرضیاء اللہ لانگو،اسد اللہ بلوچ، مبین خلجی،حاجی نورمحمددمڑ، حاجی محمدخان لہڑی،عبدالخالق ہزارہ،ملک نعیم خان بازئی،ماہ جبین شیراں،پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند،نوابزادہ

گہرام بگٹی،،قادر علی نائل،لالا رشید بلوچ،،سینیٹرزمنظوراحمدکاکڑ،انوارالحق کاکڑ، آغا عمر احمدزئی،عبدالقادر،چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگزیب بادینی،ودیگر بھی موجود تھے۔عمران خان نے کہاکہ ہم نے بلوچستان کے لیے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ہے، 15سالوں میں 11سو کلومیٹر

منصوبے سڑکوں کے بنے تھے جبکہ ہمارے ڈھائی سالوں میں 3300کلومیٹر سڑکوں کے منصوبے بنے اور ان پرکام شروع ہوگیا۔ جام کمال خان نے خونی شاہراہ کی بات کی چمن سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے کراچی میں خود بھی اس شاہراہ پر سفر کیاہے مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ یہ سڑک کیوں خطرناک ہے وہ اس لئے خطرناک ہے لوگ

اس پر تیزی سے سفر کرتے ہیں سڑک چھوٹی ہونے کی وجہ سے زیادہ خطرناک ہوتاہے،جو بھی حکومت بنتی ہے اور کوئی وزیراعظم بنتاہے تو ایک نظرے اور سوچ کی بنیاد پر آتی ہے میری سوچ ہے کہ کامیابی اور عزت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے،اللہ اس کو کامیابی دیتاہے جو اللہ کے مخلوق کیلئے کچھ کرتاہے اس کیلئے ضروری

نہیں کہ وہ مسلمان ہو،ان کا کہنا تھا کہ گنگارام نے لاہور میں ہسپتال بنایا، ساری دنیا ان کی تعریف کرتی ہے، دنیا ان کو یاد کرتی ہے جو انسانیت کے لیے کچھ کرتے ہیں اور لاہورمیں گنگا رام کانام ہمیشہ یاد رہے گا،دنیا کبھی پیسے والے لوگوں اور بڑے بڑے بادشاہوں کو یاد نہیں رکھتی انہیں یاد رکھاجاتاہے جوانسانیت کیلئے کچھ کرجاتے ہیں دنیا

میں ہمارے بڑے صوفی جنہوں نے اسلام یہاں لایاآج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جاتے اورفاتحہ کرتے ہیں،کئی سو سال کے بعد بھی لوگ جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے دکھی انسانیت کیلئے کام کیا۔انہوں نے بتایا کہ جب 2013 میں ہماری خیبر پختونخوا میں حکومت میں آئی تو وہ دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر تھا،زیادہ نقصان جنگ اور

دہشتگردی کا قبائلی علاقوں کو ہواتھااور سب سے زیادہ دہشتگردی وہاں تھی،قانون پرعمل داری کایہ عالم تھاکہ پولیس کے 500 جوان شہید ہو چکے تھے، پولیس مایوسی کا شکار ہوگئی تھی،تین سے چار سال ہمیں سننا پڑا ہمارے مخالف کہتے تھے کہ کدھر ہے نیاپختونخوا اور نیا پاکستان،اس وقت کے وزیراعظم بڑے دعوے کرتے تھے

کہ کہاں ہے نیا پاکستان،میرا ایک پرانا سیاسی سکول کے دنوں کا دوست جو مسلم لیگ(ن) سے تھا انہوں نے مشورہ دیاکہ آپ اس بار پنجاب پر فوکس کرے کیونکہ خیبرپشتونخوا میں ایک بار لوگ ووٹ دیتے ہیں دوسری باری کسی کو نہیں دیتے لیکن جب پھر ہمیں کے پی میں 2018کے الیکشن میں دو تہائی اکثریت ملی، دو تہائی اکثریت اس لیے

ملی کہ وہاں غربت میں کمی آئی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق کے پی میں سب سے تیزی سے غربت کم ہوئی، یو این ڈی پی کے مطابق انسانوں پر سب سے زیادہ سرمایہ کاری کے پی میں ہوئی رپورٹ بعد میں آئی جبکہ 2018کاالیکشن کا نتیجہ پہلے آیا،میرا فلسفہ ہے کہ پاکستان میں اب تک جو ترقی ہوتی

رہی ہے پاکستان پیچھے چلا گیاہے،جب ہمارے سربراہ باہر جاتے تھے ان کا کیسے استقبال کیاجاتاہے،یو اے ای کے سربراہ کی اسلام آباد میں ڈپٹی کمشنر استقبال کرتے تھے،اور آہستہ آہستہ پاکستان پیچھے چلا گیا،آج بنگلہ دیش پاکستان سے آگے نکل جس کو ہم بوجھ سمجھتے تھے یو این ڈی پی رپورٹ ہے کہ پاکستان میں ایلیٹ کپچر ہے جس

نے ملک کے وسائل قبضہ کئے ہوئے ہیں ترقی سارے طاقت ور لوگ کھینچ لے جاتے ہیں اور چھوٹے صوبے پیچھے رہ جاتے ہیں جس سے غریب غریب اور امیر امیر ہوتاہے،ہمارے حکمرانوں نے ایسے علاقوں میں جائیدادیں خریدی ہے جہاں برطانیہ کاوزیراعظم خود بھی جائیداد خرید نہیں سکتا،لندن کے امیر ترین علاقوں میں ان

حکمرانوں کے محلات بنے ہوئے ہیں،وہ طبقہ امیر اور باقی غریب ہوگئے،انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں بننے والے وزیراعظم کو بلوچستان کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ بلوچستان پر توجہ نہیں دیتے اور یہاں سے طاقت ور لوگوں کو اپنے ساتھ ملالیتے انہیں نوازتے جبکہ باقی بلوچستان پیچھے چلا جاتا،بلوچستان کو

بس سے زیادہ کنکٹویٹی کی ضرورت ہے اگر یہاں مواصلاتی نظام نہیں ہوگی تو یہ پیچھے چلاجائے گا۔یہاں کوئی مائنڈ سیٹ ہی نہیں تھا کہ بلوچستان کو ترقی کی راہ پرگامزن کیاجائے،پاکستان تب ترقی کرسکتاہے جب نچلا طبقہ ترقی کی راہ پرگامزن ہو،پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ساتھ لیکر چلیں گے تو ہی ترقی ممکن ہے ریاست مدینہ

کی بات جب کرتے ہیں تو ایک یونیک ماڈل تھی کیونکہ اس وقت صرف اور صرف بادشاہت ہوا کرتی تھے اس ریاست کے سربراہ نے بیت المال کے پیسے صرف غریبوں،یتیموں اور بیواؤں پر خرچ کئے،چین جو آج تیزی سے ترقی کرتا جارہاہے انہوں نے نچلے طبقے پر فوکس کیا،چین کی سوا ارب کی آبادی ہے جس میں ایکسٹریم پاورٹی

ختم کردیا 70کروڑ لوگوں کو 30سالوں میں غربت کی لکھیر سے اوپر لایاگیا جوتاریخ میں یادرکھاجائے گا،ویسٹرن چین جو پیچھے رہ گیا تھا کو آگے لانے کیلئے سی پیک کامنصوبہ شروع کیاگیا پاکستان میں ویسٹرن علاقہ جات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو سابقہ حکمرانوں کی جانب سے نظرانداز کئے گئے ہیں انہوں نے

کہاکہ ملک کے ویسٹرن علاقے جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کی ترقی کے ساتھ ساتھ نچلے طبقے کو اوپر لانے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے،ایک بلوچستان جبکہ دوہمارے صوبے پنجاب اور خیبرپشتونخوا جبکہ تیسرا گلگت بلتستان کا صوبہ ہے میں ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس دے رہے ہیں اور ایک غریب خاندان ملک میں کسی بھی ہسپتال میں

10لاکھ روپے تک اپنا علاج کراسکتاہے،یہ فلاحی ریاست کیلئے سب سے بڑا قدم ہے،غریب گھرانوں سے پوچھاجائے کہ بیماری کی وجہ سے وہ کس مشکل سے گزرتے ہیں جن کا جمع پونجی بیماری پر خرچ ہوجاتے ہیں،بلوچستان میں بھی ہر خاندان کے پاس جا نا چاہیے،صحت کارڈ سے سرکاری وپرائیویٹ ہسپتالوں میں مقابلے کا

رحجان بڑھے گا اور جو ہسپتال صحیح علاج نہیں کرے گا تو پھر لوگ دوسرے ہسپتالوں کا رخ کرینگے۔پنجاب پھر بازی لے گیاہے کسان کارڈ جس میں چھوٹے کسانوں کو رجسٹرڈ کرکے انہیں کسان کارڈکے ذریعے ڈائریکٹ سبسڈی دیاجائے گاادویات ہو یا کھاد یا پھر بیج،ملک میں اپنے کسانوں کو اٹھائیں گے،ہمیشہ فائدہ بڑے کسان اٹھاتے تھے لیکن اب ہم چھوٹے کسان پر فوکس کررہے ہیں۔ہم اپنے نظریے پر کام کررہے ہیں خیبرپشتونخوا کے ہسپتال ٹھیک کئے اور تعلیم پر توجہ دی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *