قمر باجوہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔۔۔۔صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں آرمی چیف نے ایاز صادق کے بیا ن پر ردعمل دے دیا

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)اپنےیو ٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 20 سے 25 صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔صحافیوں کو افطار ڈنر پر بلایا گیا تھا اور یہ ملاقات سات گھنٹے تک جاری رہی۔اس ملاقات میں آرمی چیف نے کچھ گلے شکوے کیےاور کچھ سخت سوالوں کے جوابات بھی دیے۔روف کلاسرا کے مطابق

آرمی چیف سے ابصار عالم واقعے سے متعلق سوال کیا گیا۔جس پر انہوں نے کہا کہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ گولیاں چلانے والا دور اب چلا گیا ہے۔اگر کسی کے ساتھ ایسا کچھ کرنا ہو تو اور بڑے طریقے ہوتے ہیں۔اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی کے پیٹ میں گولی مار کر سبق سکھایا جائے۔میں نے اس معاملے پر کام کرنے والی سیکیورٹی فورسز کو کہا ہے کہ ملزموں کو تلاش کیا جائے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ فوج اتنی کمزور نہیں رہی کہ کوئی بندہ ٹویٹ کرے اور ہم اس پر ردعمل دیتے ہوئے گولی مروا دیں۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مجھ پر بہت بڑا اٹیک کیا تھا۔ایاز صادق نے کہا کہ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں جبکہ اس وقت ہمیں انڈیا پر برتری حاصل تھی۔لیکن میں نے اور پاک فوج نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ہم نے ایاز صادق کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تو کیا ابصار عالم کے خلاف ایک ٹوئٹ پر کر سکتے تھے۔

حالانکہ ہم قانونی کاروائی رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔یہ کہہ دینا کہ ہم لوگوں کو گولیاں مروا رہے ہیں درست نہیں،پاک فوج میں بہت برداشت ہے اور وہ کسی ایک آدمی کے ٹوئٹ پر غصے میں نہیں آتی۔آرمی چیف نے اینکر سے یہ بھی کہا کہ آپ کے پروگرام میں فلاں لوگ آتے ہیں اور جھوٹ کو من و عن نشر کیا جاتا ہے۔آرمی چیف نے ایک اینکر سے کہا کہ آپ کے پروگرام میں فلاں باتیں ہوتی ہیں۔

جس پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سارے ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ میں اتنا ٹی وی نہیں دیکھتا لیکن ساری باتیں مجھ تک پہنچائی جاتی ہیں۔ یہاں پر ان کا اشارہ آئی ایس پی آر کی جانب تھا۔آرمی چیف نے کہا کہ میں نے آئی ایس پی آر کو بھی کہا ہے کہ آپ غیر سیاسی رہیں اور اور دوسرے معاملات پر ردعمل مت دیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *