کورونا کے خلاف جنگ، پاک فوج بھی متحرک ہو گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر کے اہم اعلانات

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا کے خلاف جنگ میں پاک فوج بھی متحرک ہو گئی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل افتخار بابر کا کہنا ہے کہ پاک فوج اس بار بھی انٹرنل سکیورٹی الائونس نہیں لے گی۔ ملک میں اس وقت کورونا کی تیسری لہر جاری ہے جو کورونا وائرس کی پہلی دونوں لہروں سے زیادہ خطرناک ہے، ان کا کہنا تھا کہ

وباء کی شدت اور تیز رفتار پھیلائو کی وجہ سے اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہاہے، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت آکسیجن کی پیداوار کا 75 فیصد صحت کے شعبے کے لئے مختص ہے، موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ آکسیجن بھی صحت کے شعبے کے لئے وقف کرنا پڑ سکتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سولہ شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، میجر جنرل افتخار بابر نے کہا کہ کورونا کے باعث 23 اپریل کو 157 افراد انتقال کر گئے، ملک بھر میں 570 افراد وینٹی لیٹرز پر ہیں، 4300 کی حالت نازک ہے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ ہسپتالوں میں 90 فیصد سے زائد وینٹی لیٹرز بھرے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں پاکستان آرمی آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لئے طلب کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد اور امن کی صورتحال بہتر رکھنے کی بنیادی ذمہ داری سول اداروں کی ہے، پاک آرمی ایمرجنسی رسپانڈر کے طور پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھرپور معاونت کرے گی اور انہوں نے بتایا کہ آج صبح چھ بجے سے ملک کے طول و عرض میں ہر ضلع کی سطح پر آرمی ٹروپس سول اداروں کی مدد کے لئے پہنچ چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 245 کے تحت ملک بھر میں ہر ایڈمنسٹریٹو

ڈویژن کی سطح پر ایک ٹیم تعینات کر دی گئی ہے، ٹیم کی سربراہی بریگیڈئر رینک کے آفیسر کریں گے جبکہ ہر ضلع کی سطح پر لیفٹیننٹ کرنل کی سربراہی میں آرمی ٹروپس سول انتظامیہ کی مدد کریں گے، پاکستان آرمی ٹروپس کی تعیناتی کا بنیادی مقصد سول حکومت کی معاونت ہے۔ ان کا کہنا تھا کورونا ایس او پیز پر عمل کرکے ہی ہم اس وباء سے محفوظ رہ سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ گھروں، مسجدوں اور تمام مقامات پر حفاظتی تدابیراختیار کرکے ہم ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں، بحیثیت قوم ہمیں پہلے سے زیادہ احتیاط کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *