پاکستان میں آکسیجن کا سب سے بڑا پیدواری یونٹ بند ہونے کا انکشاف ‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی ) کرونا وباء کی تیسری لہر میں شدت آتی جارہی ہےجس کے پیش نظر ملک بھر میں آکسیجن کی قلت کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں ، کروناکے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب آکسیجن کا استعمال بڑھنے سے آکسیجن سلنڈر کی قیمت میں تیزی آگئی ہے، کورونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر ملک میں آکسیجن کی کمی کا خدشہ ہے

اسٹیل ملز میں آکسیجن کا بڑا پیداواری یونٹ موجود بند پڑا ہے۔ حکام کے مطابق پاک اسٹیل ملز کا آکسیجن پلانٹ 15 ہزار 200 کیوبک میٹر فی گھنٹہ پیداوار دے سکتا ہے۔ دوسری جانب آکسیجن ڈیلرزکا کہنا ہے کہ ایک گیس سلنڈر پر 3750 روپے کا ٹیکس ہے اورایک کنٹینر پر 15 لاکھ روپے کے محصولات سلنڈرز کی درآمد کو دشوار بنارہے ہیں ۔ آکسیجن ڈیلرز کے مطابق کرونا کی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے آکسیجن سلنڈرز کے اسٹاک کو بڑھانا ضروری ہے ،حکومت سلنڈرز کی درآمد پر ڈیوٹی محصولات معطل کرے۔ ڈیلرزنے مزید کہا کہ سلنڈرز کی امپورٹ میں ایک ماہ لگے گا اس لئے سلنڈرز کی دستیابی ممکن بنانے کے لیے فوری فیصلہ کیا جائے، اس وقت گیس کا نہیں بلکہ سلنڈرز کی قلت کا سامنا ہے۔ڈیلرز نے بتایا کہ لاہور اسلام آباد کے علاوہ ملک بھر میں آکسیجن کی طلب معمول پر ہے ۔واضح رہے کہ میڈیکل آکسیجن ڈیلرز نے کہا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں آکسیجن کی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم ملک بھر میں صورتحال کنٹرول میں ہے اور کسی شہر میں آکسیجن کی سپلائی میں تعطل کا کوئی فوری خدشہ نظر نہیں آرہا ۔ڈیلرز کے مطابق پاکستان میں آکسیجن کی فراہمی کا کوئی مسئلہ نہیں تاہم سلنڈرز کی دستیابی کو خدشات کا سامناہے۔ کرونا کی لہر کے دوران بڑے پیمانے پر شہریوں نے اپنے گھروں میں آکسیجن سلنڈرز رکھنا شروع کردیے ہیں جس سے سلنڈرز کی قلت کا سامنا ہے،

ہسپتالوں میں یہ سلنڈرز خالی ہوکر دوبارہ ڈیلرز کے پاس آتے ہیں لیکن گھروں کے علاوہ ہسپتالوں میں بھی سلنڈرز کا اسٹاک رکھا جارہا ہے۔آکسیجن کے ڈیلرعمیر نے بتایا کہ پاکستان میں آکسیجن سلنڈرز کی درآمد پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹی عائد ہے جس کی وجہ سے سلنڈرز کی درآمد محدود ہوگئی ہے ایک سلنڈر پر لگ بھگ تین ہزار سات سو پچاس روپے کے ٹیکس امپورٹ کی سطح پر وصول کیے جاتے ہیں اور کورونا کی وبا کے باوجود یہ ٹیکس ختم نہیں کیے گئے ایک کنٹینر جس میں 400 سلنڈرز آتے ہیں 15 لاکھ روپے

کی ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کرنے کلیئر کرایا جاتا ہے جو موجودہ حالات میں ختم ہونا چاہیے۔ڈیلرز کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں آکسیجن سلنڈر کی ری فلنگ معمول کے مطابق جاری ہے اس وقت 55 کیوبک فٹ آکسیجن کی ری فلنگ 400 روپے، 120 کیوبک فٹ کی ری فلنگ 1200 روپے جبکہ 240 کیوبک فٹ آکسیجن کی ری فلنگ 1800 روپے میں کی جارہی ہے البتہ سلنڈرز کی قیمتوں میں کرونا کی وبا سے دگنا اضافہ ہوچکا ہے ۔ اس وقت 55 کیوبک فٹ کا سلنڈر 10 ہزار روپے میں فروخت

ہورہا ہے، 110 کیوبک فٹ کا سلنڈر 15 ہزار روپے جبکہ 240 کیوبک فٹ کا سلنڈر 23 ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ڈیلرزنے کہا کہ بھارت کی صورتحال اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے کیسز کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ سلنڈرز کی خاطر خواہ تعداد میں دستیابی کو یقینی بنایا جائے ، حکومت سلنڈرز پر محصولات ختم کربھی دے تب بھی سلنڈرز درآمد کرنے میں ایک ماہ کا عرصہ لگے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *