روزہ رکھ کر میچ کھیلنے والے محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی 16 سالہ تاریخ کا منفرد ترین ریکارڈ اپنے نام کر لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی سولہ سالہ تاریخ کا منفرد ترین ریکارڈ بنا ڈالا۔ وہ کیرئیر کے دوران نو ٹی ٹوئنٹی میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے، محمد رضوان نے اپنے آخری نو ٹی ٹوئنٹی میچز میں 103 کی اوسط سے 515 رنز بنائے اور ان کا سٹرائیک ریٹ 145 رہا جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے محمد رضوان اور باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت زمبابوے کو پہلے ٹی20 میچ میں 11رنز سے شکست دیکر سیریز میں

0-1 کی برتری حاصل کر لی،پاکستان کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 149 رنز بنائے جس کے جواب میں میزبان ٹیم مقررہ اوورز میں 7 وکٹ کے نقصان پر 138 رنز بناسکی،محمد رضوان کو فتح گر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹی20 میچ میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔پاکستان کی اننگز کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے ہیرو اور کپتان بابراعظم صرف دو رنز بنا کر چلتے بنے۔فخر زمان نے 13 رنز کی اننگز کھیلنے کے ساتھ ساتھ دوسری وکٹ کے لیے 34 رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس کے بعد میڈھویرے کا شکار بن کر وہ بھی پویلین لوٹ گئے۔محمد حفیظ ایک مرتبہ پھر ناکامی سے دوچار ہوئے اور پانچ رنز بنانے کے بعد میڈھویرے کی دوسری وکٹ بن گئے۔دانش عزیز اور رضوان کے باعث وکٹیں گرنے کا سلسلے کچھ دیر کے لیے تھم گیا اور چوتھی وکٹ کے لیے 34 رنز کی ساجھے داری قائم کی جس کے بعد دانش کی 15 رنز کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔حیدر علی کا بلا اس مرتبہ بھی خاموش رہا اور وہ صرف پانچ رنز بنا سکے جبکہ آل راؤنڈرز فہیم اشرف اور محمد نواز کی اننگز بالترتیب ایک اور 9 رنز تک محدود رہی۔دوسرے اینڈ سے مایوسی کے ساتھ ساتھیوں کی یکے بعد دیگرے پویلین واپسی کا منظر دیکھنے والے محمد رضوان نے ایک اور نصف سنچری مکمل کی۔ایک موقع پر پاکستان کی ٹیم نے 18 اوورز میں 124 رنز بنائے تھے لیکن آخری دو اوورز میں وکٹ کیپر بلے باز نے جارحانہ بیٹنگ کر کے پاکستان کو قدرے معقول مجموعے تک رسائی دلائی اور بالآخر یہی رنز میچ میں اصل فرق ثابت ہوئے۔پاکستان کی ٹیم نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 149 رنز بنائے، رضوان نے 61 گیندوں ایک چھکے اور 10 چوکوں کی مدد سے 82 رنز کی اننگز کھیلی اور آؤٹ نہیں ہوئے۔زمبابوے کی جانب سے میڈھویرے اور لیوک جونگوے نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ہدف کے تعاقب میں اوپنرز نے زمبابوے کو 21 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس موقع پر محمد حسنین نے پاکستان کو یکے بعد دیگرے دو کامیابی دلا کر میڈھویرے اور تدیوناشے مرومانی کو چلتا کردیا۔دو وکٹیں گرنے کے بعد تناشے کمن ہکموے کا ساتھ دینے کریگ ارون آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 56 رنز کی ساجھے داری قائم کی۔اس سے قبل کہ یہ شراکت مزید خطرناک ثابت ہوتی، ایک عرصے بعد باؤلنگ کرنے والے محمد حفیظ نے رضوان کی مدد سے 29 رنز بنانے والے کمن ہکموے کو قابو کر لیا۔ارون سے بھی ساتھی کھلاڑی کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور دو گیند کے بعد وہ عثمان قادر کی گیند پر نواز کو کیچ دے بیٹھے۔لیگ اسپنر نے عمدہ باؤلنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے حریف کپتان شان ولیمز اور ریگس چکابوا کی اہم وکٹیں حاصل کر کے زمبابوے کے لیے ہدف کا حصول مشکل بنا دیا۔ریان بْرل اور لیوک جونگوے نے کچھ ہاتھ دکھا کر اپنی ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن حارث نے بْرل کی اننگز کا خاتمہ کر کے پاکستان کو ساتویں کامیابی دلا دی۔زمبابوے کو آخری اوور میں فتح کے لیے 20 رنز درکار تھے لیکن حارث رؤف نے انہیں صرف 8 رنز بنانے دیے اور اس طرح پاکستان نے میچ میں 11 رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔میچ میں کامیابی کے ساتھ ہی قومی ٹیم نے سیریز میں بھی 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔پاکستان کی جانب سے عثمان قادر نے تین اور حسنین نے دو وکٹیں حاصل کیں۔محمد رضوان کو فتح گر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *