کرونا کی تباہ کاریاں جاری، وباء سے مزید 148 اموات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)ملک میں کورونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 148 افراد وائرس سے انتقال کرگئے جب کہ 5499 کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 47301 ٹیسٹ کیے گئے

جس میں سے 5499 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے 148 افراد انتقال کر گئے۔ سرکاری پورٹل کے مطابق مک میں کورونا وائرس مثبت آنے کی شرح 11.6 فیصد رہی۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے کیس لگاتار 8 ہفتوں سے خطرناک شرح سے بڑھ رہے ہیں ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ روس نے کہاکہ گزشتہ ہفتے 5اعشاریہ 2 ملین سے زیادہ نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے ، یہ شرح کورونا وائرس شروع ہونے کے بعد ایک ہفتے میں سب سے زیادہ ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ روس نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے، کورونا وائرس سے اب تک باضابطہ طور پر 30 لاکھ سے زیادہ افراد جان سے جا چکے ہیں ۔ٹیڈروس نے کہا کہ 10 لاکھ اموات کو پہنچنے میں 9ماہ لگے ، 20 لاکھ تک پہنچنے میں 4 ماہ اور 3 لاکھ اموات تک پہنچنے میں 3 ماہ لگے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اب کورونا کی زد میں نوجوان بھی آرہے ، 25 سے 59 سال کی عمر کے لوگوں میں انفیکشن اور اسپتال میں داخل ہونے کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب برطانوی حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ایسی ادویات تیار کرلی جائیں گی جن کا استعمال گھر میں کرکے کووڈ 19 مریضوں کا علاج کیا جاسکے گا۔اس مقصد کے لیے برطانوی حکومت نے ایک ٹاسک فورس کو تشکیل دیا ہے جسے 2021 کے موسم خزاں تک

کم از کم 2 اینٹی وائرل ادویات گولی یا کیپسول کی شکل میں تیار کرنے کا ہدف دیا گیا ۔یہ ادویات کووڈ 19 سے متاثر یا وائرس کا سامنا کرنے والے افراد گھر میں کھا سکیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس سے ان لوگوں کو تحفظ مل سکے گا جن کو کووڈ ویکسین نہیں دی جاسکی ہوگی۔حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اینٹی وائرل ٹاسک فورس بہترین علاج کی جانچ پڑتال کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے کرے گی۔اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو کووڈ 19 کے شکار افراد ک

ی صحتیابی کا عمل تیز ہوسکے گا اور بہت کم افراد کو اس سنگین شدت کا سامنا ہوگا۔یہ اینٹی وائرل ٹاسک فورس برطانیہ کی ویکسین ٹاسک فورس کی طرح کام کرے گی جو اس سے قبل برطانیہ بھر میں ویکسینز کو متعارف کرانے میں کامیاب ہوچکی ہے۔اس وقت برطانیہ میں ویکسینز کی 4 کروڑ سے زیادہ خوراکیں پہنچ چکی ہیں اور ایک کروڑ افراد کو دونوں خوراکیں دی جاچکی ہیں۔تاہم ایسے

خدشات مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ کورونا کی نئی اقسام ویکسین سے پیدا ہونے والی مدافعت کو کمزور کرکے لوگوں کو بیمار کرسکتی ہیں۔بیان کے مطابق ملک کو ایک بار پھر لاک ڈان سے ہونے والے معاشی نقصانات سے بچانے کے لیے اینٹی وائرل ادویات اہم ترین ٹول ثابت ہوسکتی ہیں۔یہ ٹاسک فورس ایسی ادویات کو شناخت کرے گی جو اس بیماری کے خلاف موثر ثابت ہوسکیں گی۔ان ادویات سے موسم سرما میں کورونا وائرس کی نئی لہر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔ برطانیہ کے چیف سائنسی مشیر

سر پیٹرک ویلانس نے بتایا کہ اس سے قبل تیزرفتاری سے ویکسینز کی تیاری اور موت کے منہ میں پہنچ جانے والے افراد کے لیے ادویات جیسا ڈیکسا میتھاسون کی شناخت اس وبا کے حوالے سے اہم ثابت ہوئے۔انہوں نے کہا کہ گولی یا کیپسول کی شکل میں اینٹی وائرل ادویات بھی وبا کے خلاف ردعمل کے لیے اہم ٹول ثابت ہوں گی جس سے ان افراد کو تحفظ مل سکے گا جن کو ویکسین سے تحفظ نہیں مل سکا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے وائرس کی نئی اقسام سے پیدا ہونے والے خدشات کے خلاف ایک نئی دفاعی لہر تیار کی جاسکے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹاسک فورس کی جانب سے بہترین اینٹی وائرلز کی دستیاب کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *