کیا گارنٹی ہے سفیر کو واپس بھیجنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی؟وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے نے کہا ہے کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا تو کوئی دوسرا یورپی ملک ایسا ہی کرے گا، تعلقات ختم کر نے سے نقصان صرف ہمیں ہوگا،کیا گارنٹی ہے سفیر کو واپس بھیجنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی؟،ہم معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کررہے تھے،یہ لوگ اسلام آباد آنے کی

تیاری کررہے تھے،سفیر کی ملک بدری کے مطالبہ کے بعد مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا،اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ کرکے کوئی فائدہ نہیں، دنیا میں 50 مسلم ممالک ہیں، کہیں بھی ایسا نہیں ہورہا، ٹی ایل پی اور ہمارا مقصد ایک ہی ہے آئے روز شان رسالت میں گستاخی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، ہمار اور ٹی ایل پی کا طریقہ کار مختلف ہے،تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو خط لکھ چکا ہوں معاملے پر متحد ہوکر آواز اٹھائیں، صرف پاکستان کے بائیکاٹ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تمام مسلم ممالک مغرب کو متفقہ پیغام دیں کہ اگر کسی بھی ملک میں اس طرح کی گستاخی کی گئی تو ہم سب اس سے تجارتی تعلقات منقطع کریں گے تب جاکر احساس ہوگا، مہم کی قیادت ہم کریں گے، احتجاج سے ا ب تک 40 پولیس کی گاڑیوں کو جلا دیا گیا، لوگوں کی نجی املاک کا نقصان ہوا، 4 پولیس اہلکار شہید ہوئے، 800 سے زائد زخمی ہیں،100 سڑکیں بلاک کردیں، کورونا کے سلنڈرز نہ پہنچنے کی وجہ سے اموات ہوئیں،انتشار کا فائدہ اٹھانے کیلئے بیرونی قوتیں بھی اس میں کود پڑیں، ابھی تک ہم نے 4 لاکھ ٹوئٹس کا جائزہ لیا ہے جن میں سے 70 فیصد جعلی اکاؤنٹس سے کی گئیں،بھارت کے 380 گروپس اس حوالے سے واٹس ایپ گروپ میں جعلی خبریں پھیلارہے تھے،معاملے پر ہماری سیاسی جماعتیں خاص طور پر فضل

الرحمان کی جماعت بھی شامل ہوگئی،(ن)لیگ نے بھی ساتھ دیا،جب سلمان رشدی نے کتاب لکھی تھی تو نواز شریف نے بطور وزیر اعظم کتنے بیانات دئیے، آج صرف انتشار پھیلانے کیلئے ساتھ مل گئے ہیں۔ پیر کو پاکستان ٹیلیویژن اور ریڈیو پاکستان پر قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جو پچھلے ہفتے حالات

ہوئے اس کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ میں آپ کے سامنے آؤں اور خطاب کروں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ملک دنیا واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا اور اس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ، ہماے لوگ دین پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن نبی اکرم ؐ ہمارے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں، اس لیے ان کی شان میں دنیا میں کہیں

بھی گستاخی ہوتی ہے، تو ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں دنیا پھرا ہوں اور اس عمل سے صرف ہمیں ہی تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ دنیا بھی جہاں کہیں بھی مسلمان بستا ہے تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ پچھلے ہفتے جو افسوناک حالات ہوئے، ایک جماعت نے ایسے پیش کیا کہ جیسے انہیں اپنے نبیؐ سے دیگر

پاکستانیوں سے زیادہ پیار ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ٹی ایل پی کے لوگ جس مقصد کے تحت لوگوں کو گھروں سے نکال رہے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے، ہم بھی ان کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ہمارے نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو، صرف ہمارا طریقہ کار مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی

ایل پی یہ کہہ رہی ہے کہ فرانس میں جو ہوا تو اس پر فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا جائے، ان سے تمام رابطے ختم کر دیے جائیں، ہماری حکومت کا طریقہ کار مختلف ہے لیکن مقصد ایک ہی ہے، وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی ملک میں کسی کی جرات نہ ہو کہ ان کی بے حرمتی کرے، ہمارا بھی وہی مقصد ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ سن

1990 کے قریب سلمان رشدی نے ایک کتاب لکھی، اس کتاب میں اس نے ہمارے نبی اکرم ؐکی شان میں گستاخی کی، پاکستان میں عوام سڑکوں پر نکلی، یہاں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا اور لوگوں کی شہادتیں بھی ہوئیں، اس کے بعد آپ دیکھیں مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو مسلمانوں کو تکلیف ہوتی

ہے جس پر کبھی کبھار باہر ممالک میں ردعمل بھی آتا ہے، یہاں ہمارے ملک میں بھی مظاہرے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کیا اس طرز عمل سے کوئی فرق پڑا، یہی سوچ ٹی ایل پی کررہی ہے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم ایکشن نہ لیں تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا اور ان سے

تمام تعلقات ختم کردینے سے یہ سب رک جائے گا، کیا کوئی گارنٹی ہے کہ اس کے بعد کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ میں مغرب کو جانتا ہوں اور میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر پاکستان یہ کرے گا تو اس کے بعد کسی اور یورپیئن ملک میں آزادی اظہار رائے کے نام پر یہی ہو گا۔انہوں نے کہاکہ جب دیگر ممالک کو پتہ چلا

گا کہ ہم نے ایسا کیا ہے تو بھی آزادی اظہار کے نام پر یہی کریں گے تو کیا ہم پھر اس کے سفیر کو بھی واپس بھیجیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 50 مسلمان ملک ہیں، کہیں بھی اس طرح مظاہرے نہیں ہوئے، کوئی بھی اس طرح نہیں کہہ رہا اور وہ بھی یہ نہیں کہہ رہے کہ سفیر کو واپس بھیجو۔انہوں نے کہا کہ سفیر واپس بھیجنے سے

فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان کو اس سے بہت فرق پڑے گا کیونکہ ہماری معیشت بہت مشکل سے اٹھ رہی ہے، بہت عرصے کے بعد پاکستان میں انڈسٹری اوپر جا رہی ہے، لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں اور ملک کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمارا روپیہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے لیکن اگر ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیج کر

تعلقات توڑیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم یورپی یونین سے تعلقات توڑیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری آدھی ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس یورپی یونین میں جاتی ہیں تو تعلقات ختم کرتے ہیں تو آدھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ختم ہو جائیں گی، اس کا مطلب بے روزگاری ہو گی اور فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور ہمارے روپے پر بھی دباؤ پڑے گا،

روپیہ گرے گا، مہنگائی بڑھے، غربت بڑھے گی، تو نقصان ہمیں ہو گا، فرانس کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکومت کے دو ڈھائی مہینے سے ٹی ایل پی سے مذاکرات جاری تھے، ہم ان کو یہی چیزیں سمجھا رہے تھے کہ اس سے نقصان ہمیں اور ہمارے عوام کو ہو گا، مذاکرات جاری تھے اور انہوں نے کہا کہ

اسمبلی میں معاملہ لائیں اور اسمبلی جو فیصلہ کرتی ہے وہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کی بات ماننے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا کہ یہ نچلی سطح پر متحرک تھے اور یہ اسلام آباد آنے کے لیے تیاریاں کررہے تھے اور انہوں نے مذاکرات کے دورنا ہی فیصلہ کر لیا کہ اگر آپ نے فرانس کے سفیر کو نہ نکالا تو ہم سارے اسلام آباد میں

دھرنا دیں گے، اس کے بعد یہ گرفتار ہوئے۔انہوں نے کہاکہ اب تک 40 پولیس کی گاڑیوں کو جلایا جا چکا ہے، لوگوں کی نجی املاک کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے، چار پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں، 800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بند کردیں جس عوام اور ہسپتالوں میں موجود مریضوں کو نقصان

پہنچا۔وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ باہر سے پاکستان کے دشمن بھی اس معاملے میں کود پڑے اور اب تک ہم نے جن چار لاکھ ٹوئٹس کو دیکھا ہے ان میں سے 70فیصد جعلی اکاؤنٹ سے تھیں، یہ اس طرح کا پراپیگنڈا ہے جس کا یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے انکشاف کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا کہ بھارت کے 380 واٹس ایپ

گروپ تھے جو جعلی خبریں چلا رہے تھے کہ پاکستان میں خانہ جنگی ہو گئی ہے۔وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام بھی اس میں شامل ہو گئی کہ کسی طرح حکومت کو عدم استحکام شکار کریں اور مسلم

لیگ(ن) بھی اس کا حصہ بن گئی،ان سے میں پوچھتا ہوں کہ جب سلمان رشدی نے کتاب لکھی تھی تو نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے تھے، انہوں نے کتنے بیانات دئیے، کتنے فورمز پر انہوں نے کہا کہ یہ بڑا غلط کام کیا ہے، کتنی دفعہ کسی بھی سربراہ مملکت نے کسی بھی فورم پر اس معاملے پر بات کی تھی؟ لیکن آج صرف انتشار

پھیلانے کیلئے ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سب سے پہلے جون 2019 میں اسلامی تعاون تنظیم کی 14ویں سمٹ میں پہلی بار میں نے جاکر اسلاموفوبیا کی بھی بات کی اور کہا کہ ناموس رسالت کے معاملے پر ہم سب کو ملک کر مغرب کو سمجھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ستمبر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل

اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا، پھر 2020 میں بھی اسی فورم پر اسلامو فوبیا کی بات کی۔وزیراعظم نے بتایا کہ پھر میں نے فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ کو خط لکھا کہ فیس بک کو اسلاموفوبیا کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پھر جب یہ فرانس میں ہوا جس پر ٹی ایل پی کہہ رہی ہے کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجو، میں نے تمام مسلم ممالک کے سربراہان کو خط لکھا اور کہا کہ ہمیں مشترکہ ایکشن لینا چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *