سحری تک جاگنے کے بے پناہ نقصانات دنیا کی 2معروف یونیورسٹیوں نے خطرات سے آگاہ کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)رمضان المبارک میں اکثر لوگ سحری تک جاگنے کی عادت اپنا لیتے ہیں جو ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔سرے یونیورسٹی اور نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح جلد اٹھنے اور رات کو جلد سونے کے

عادی افراد کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والوں کو زیادہ امراض اور طبی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد میں کسی بھی مرض سے درمیانی عمر میں موت کا خطرہ جلد اٹھنے والوں کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ جو رات کو دیر تک جاگتے اور پھر دن کو دیر تک سوئے رہتے ہیں وہ دیگر افراد کی نسبت موت کے 10فی صد زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق رات کو دیر تک بیدار رہنے والے مختلف قسم کے نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے ایسے لوگ جنہیں صبح جلد بیدار ہونا ہوتا ہے مثال کے طور پر ملازمت یا دیگر مصروفیات کے سلسلے میں، تو انہیں چاہیے کہ وہ لازمی طور پر رات کو جلد سو جائیں تاکہ ان کے جسم کو جتنی نیند کی ضرورت ہوتی ہے، وہ پوری ہوسکے۔نیند کے حوالے سے غلط پیٹرن یا روٹین صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت مند رہنے کے لیے

ضروری ہے کہ انسان روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند لے۔پر سکون نیند انسانی جسم، دماغ اور ذہن کے لئے بیحد ضروری ہے کیونکہ پرسکون نیند انسانی نفسیات اور جسمانی اعضا کے بہتر طور پر کام کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.