مجھے جج کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف نظر ثانی اپیل کی سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میرا مؤقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، جسٹس عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے پر دکھ ہوا،کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان

ہیں لیکن دراصل منافقین کی قوم ہیں،ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے، پاکستان کو باہر سے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد مجھ پر قیامت برپا کی گئی، ایف بی آر نے آج تک مجھے نوٹس نہیں بھیجا، میرے بچے اور اہلیہ میرے زیر کفالت نہیں، لندن جائیدادیں خریدتے وقت بھی اہلیہ اور بچے زیر کفالت نہیں تھے، عمران خان کی طرح میری اہلیہ نے جائیداد نہیں چھپائی،سمجھ نہیں آتا جمہوریت میں رہ رہے ہیں یا ڈکٹیٹر شپ میں۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس پر اپیل کی سماعت کی جس کے دوران ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی عدالت میں پیش ہوئیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شعرو شاعری کے ساتھ دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، اپنی اہلیہ بیٹی اور بیٹے سے معذرت خواہ ہوں کہ میری وجہ سے اہلیہ اور بچوں کے خلاف فیصلہ آیا، میرے اور اہلخانہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج تک ایک شخص عدالت میں موجود نہیں، فروغ نسیم کیلئے عدالت کا احترام نہیں وزرات ضروری ہے، انہوں نے میری اہلیہ اور مجھ پر الزامات عائد کیے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کہنے کو ہم

اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں لیکن دراصل منافقین کی قوم ہیں، کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا عدالتی حکم آئین اور متعدد قوانین کے خلاف ہے، خاتون چیئرپرسن ایف بی آر کو میرا کیس جاتے ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 184/3 بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، میری بیٹی اور بیٹے کو ایف بی آر نوٹس کا حکم بنیادی

حقوق کے زمرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ کہا گیا عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی، عمران خان کرکٹر تھے تو ان کا مداح تھا آٹوگراف بھی لیا، عمران خان بھی ایک انسان ہیں۔درخواست گزار جج نے کہا کہ جسٹس عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے پر دکھ ہوا، جسٹس عظمت سعید آج حکومت کی

پسندیدہ شخصیت ہیں، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے میرا مؤقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے، پاکستان کو باہر سے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں ہیں ان کی نشاندہی کریں،

سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں آپ کے وکیل نے دلائل نہیں دیے تھے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میری درخواست کا ایک حصہ ریفرنس دوسرا جوڈیشل کونسل سے متعلق تھا، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے وکیل نے جوڈیشل کونسل والے حصے پر دلائل نہیں دیئے تھے، آپ سپریم جوڈیشل کونسل والے حصے پر

نظرثانی میں دلائل کیسے دے سکتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ عدالت نے ریفرنس کو اپنے فیصلے میں زندہ رکھا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کے خلاف مجھے سنگین تحفظات ہیں، میرا کیس دوبارہ جوڈیشل کونسل بھجوانے کے حوالے سے دلائل دوں گا۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے انصاف کا قتل عام کیا،

صدر نے میرے 3 خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا، مجھے ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جن ججز کے آپ نام لے رہے ہیں وہ ریٹائر ہوچکے ہیں، بار بار دو ججز پر الزامات نہ لگائیں۔اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو کہا کہ اپنے کیس پر دلائل

دیں آپ کی مہربانی ہوگی۔جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا فائز عیسٰی اس عدالت کا جج نہیں ہے؟ کیا عظمت سعید اور آصف سعید کھوسہ کے نام بہت مقدس ہیں، آپ چاہتے ہیں موجودہ چیف جسٹس کا نام لوں؟۔انہوں نے کیا کہ یہ مجھے بطور جج سپریم کورٹ کے عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں، مجھے عہدے سے ہٹانے کی خواہش

کی وجہ یہ ہے کہ میں نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دیا، میرے عہدے پر رہنے یا نہ رہنے سے فرق مجھے نہیں ملک کو پڑے گا، میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، ہمت نہیں ہاروں گا۔انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد مجھ پر قیامت برپا کی گئی، خادم رضوی نے دھرنا کیس پر کوئی نظر ثانی اپیل دائر نہیں

کی، خادم رضوی کے علاوہ باقی سب نے فیض آباد دھرنا فیصلہ چیلنج کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزرات دفاع اور شیخ رشید نے بھی نظر ثانی دائر کی، وحید ڈوگر سمیت کسی درخواست گزار کو دلائل دینے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور ایم کیو ایم نے بھی فیض آباد دھرنا فیصلے کے خلاف

نظرثانی اپیل دائر کی، تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست میں کہا گیا میں جج بننے کا اہل ہی نہیں ہوں، میں واقعی جج بننے کا اہل نہیں کیوں کہ میں بنیادی حقوق کی بات کرتا ہوں۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منیب اختر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جو بات میں نے کی نہیں

وہ مجھ سے منسوب مت کریں، میں نے صرف ایک سوال پوچھا ہے۔جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ جج صاحب آپ پارٹی نہ بنیں بلکہ ایک وکیل کی طرح اپنے دلائل دیں جس پر قاضی فائزعیسیٰ بولے کہ میں وکیل کے طور پر دلائل نہیں دے سکتا، میں ذاتی حیثیت میں دلائل دے رہا ہوں۔جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور

جسٹس منیب اختر کے درمیان بچاؤ کراتے رہے بعدازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر سے معذرت کرلی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم کیس چلانا چاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انور منصور ہر روز ٹاک شوز میں آتے ہیں جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ٹاک شوز

میں کون آتا ہے ہمارا سروکار نہیں۔جسٹس مقبول باقر نے درخواست گزار جج کو کہا کہ آپ ایف بی آر والے معاملے پر دلائل دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے آج تک مجھے نوٹس نہیں بھیجا، میرے بچے اور اہلیہ میرے زیر کفالت نہیں، لندن جائیدادیں خریدتے وقت بھی اہلیہ اور بچے زیر کفالت نہیں تھے،

عمران خان کی طرح میری اہلیہ نے جائیداد نہیں چھپائی۔انہوں نے مزید کہا کہ نیازی سروسز والا کیس ایف بی آر کو نہیں بھیجا گیا، میرے کیس میں عدالت نے تفریق سے کام لیا، لندن جائیدادوں کی کل مالیت ایف 6 کے ایک پلاٹ کے برابر نہیں، فروغ نسیم روسٹرم پر آکر جھوٹ بولتے رہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سال 2019 میں

گرمیوں کی چھٹیاں لی، گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی کی، میرے سسر کا آپریشن تھا اسی دوران ہی مجھے تکلیف دی گئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شہزاد اکبر پی ٹی آئی کور کمیٹی کے ممبر ہیں، انہوں نے اپنے خلاف کسی الزام کی تردید نہیں کی، شہزاد اکبر کو جیل میں ہونا چاہیے لیکن وہ

اہم عہدے پر ہیں، شہزاد اکبر پی ٹی آئی کے ورکر اور غیر منتخب شخص ہیں۔درخواست گزار جج نے مزید کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ جمہوریت میں رہ رہے ہیں یا ڈکٹیٹر شپ میں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومت میں موجود غیر منتخب افراد کو غلط نہ کہیں، سیاسی لوگوں کو حکومتی عہدے ملتے رہتے ہیں، ان باتوں کو چھوڑیں

اور اصل مدے پر آئیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اثاثہ ریکوری یونٹ پر فیصلے میں لکھ چکے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ انور منصور توہین عدالت کے مرتکب ہوئے تھے، انور منصور نے کہا کہ بینچ میں موجود ججز میری مدد کر رہے ہیں، آج تک انور منصور نے معافی نہیں مانگی۔انہوں نے کہا کہ انور منصور نے کہا تھا کہ

انہوں نے فروغ نسیم کے کہنے پر بیان دیا، انور منصور نے بطور اٹارنی جنرل عدالت کا مذاق اڑایا، عدالت کی عزت پر آنچ نہیں آنی چاہیے۔جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ شاید حقائق سے واقف نہیں، انور منصور کو عہدے سے مستعفی ہونا پڑ گیا تھا، ججز کے بارے میں جس نے بھی بات کی اس کے خلاف ایکشن لیا گیا۔بعد ازاں عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت پیر تک کیلئے ملتوی کردی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *