291 ٹن استعمال شدہ اشیا کا فضلہ کتنے منٹ میں اٹھایاگیا؟ افطاری کے بعدمطاف صاف کرنے کا ریکارڈ قائم

مکہ مکرمہ، ریاض(این این آئی )صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے حرم مکی میں صفائی کے ذمہ دار ادارے کی طرف سے مسجد حرام کی قالینوں اور صحن مطاف کو صاف کرنے کی ذمہ داری انجام دی جاتی ہے۔اس ادارے کے رضا کار نماز مغرب کے بعد صرف پانچ منٹ میں مطاف کو صاف کردیتے ہیں۔ ماہ صیام میں مطاف کی صفائی کا خاص اہتمام

کیا جاتا ہے۔مسجد حرام میں قالینوں کی تطہیر کے ذمہ دار ادارے کے ڈائریکٹر جابر بن احم ودعانی نے بتایا کہ صرف پانچ منٹ میں صحن مطاف کی صفائی ایک ریکارڈ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو رمضان المبارک کو حرم مکی اور صحن مطاف میں صفائی کے دوران 291 ٹن استعمال شدہ اشیا کا فضلہ اٹھایا گیا۔ صحن مطاف کی صفائی کے لیے 4 ہزار رضار کار کام کرتے ہیں اور کوڑے کے 1500 بڑے بیگ اور 1500 چھوٹے بیگ استعمال کیے جاتے ہیں ، دوسری جانب سعودی عرب میں اس مرتبہ رمضان المبارک کے دوران میں آن لائن خریداری کے حجم میں اضافہ متوقع ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چیک آئوٹ ڈاٹ کام کے سروے میں بتایاگیا کہ قریبا 73 فی صد لوگ رمضان میں آن لائن مصنوعات اور خدمات کی خریداری کا ارادہ رکھتے ہیں۔گذشتہ سال بھی کم وبیش اتنی ہی تعداد میں لوگوں نے آن لائن خریداری کی تھی۔البتہ ان کے مقابلے میں قریبا 23 فی صد لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ خود دکانوں یا خریداری

مراکز پر جاکر اشیائے ضروریہ یا سروسز خرید کرنا چاہتے ہیں۔سروے میں مختلف عمروں کے گروپوں کے خریداری رجحانات کا بھی جائزہ پیش کیا گیا ۔اس کے مطابق زیادہ صاحب ثروت اور 18 سے 34 سال کی عمر کے لوگ دوسرے کے مقابلے میں زیادہ آن لائن خریداری کریں گے۔

اس سروے کے مطابق سعودی عرب میں لوگ گذشتہ رمضان کے مقابلے میں اس مرتبہ زیادہ متنوع مصنوعات خرید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔البتہ خریداروں کا زیادہ مقبول زمرہ تو اشیائے صرف ہی ہیں۔سروے میں حصہ لینے والے 54 فی صد افراد کا کہنا تھا کہ وہ آن لائن اشیائے ضروریہ

خرید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،46 فی صد کپڑے اور 45 فی صد خوراک کی اشیا اور 40 فی صد گھریلو استعمال کی دوسری اشیا خرید کرنا چاہتے ہیں۔آن لائن خریداری کرنے والوں میں زیادہ تر صارفین(64 فی صد)کارڈ یا ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے رقوم ادا کرتے ہیں۔سروے کے مطابق رمضان میں ڈیجیٹل شکل میں رقوم کی ادائی سال کے باقی دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *