”غم عشق لیکر جائیں کہاں۔۔۔ آنسوؤں کی یہاں قیمت نہیں” کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان، دراصل منافقین کی قوم ہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دوران سماعت دلائل

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کیس پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی انکے خلاف فیصلہ دیا گیا۔

اپنی اہلیہ بیٹی اور بیٹے سے معذرت خواہ ہوں، میری وجہ سے اہلیہ اور بچوں کے خلاف فیصلہ آیا، آج تک ایک شخص عدالت میں موجود نہیں ہے، فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں وزرات ضروری ہے،وزیر قانون فروغ نسیم نے میری اہلیہ اور مجھ پر الزامات عائد کیے،فروغ نسیم کو شاید اسلامی تعلیمات کا بھی علم نہیں،نبی کریم ۖ بھی اپنی اہلیہ کے لیے کام کرتے تھے،کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان دراصل منافقین کی قوم ہیں،جسٹس فائز عیسی نے گانے اور شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”غم عشق لے کر جائیں کہاں آنسوؤں کی یہاں قیمت نہیں” کیس ایف بی ار کو بھجوانے کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز تھا،آرٹیکل 184/3 بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے،میری بیٹی اور بیٹے کو ایف بی ار نوٹس کا حکم بنیادی حقوق کے زمرے میں نہیں آتا،ٹیکس کمشنر ذولفقار احمد نے عدالت کے دباؤ میں آکر کارروائی کی،سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے بدنیتی پر مبنی کارروائی کی، سپریم جوڈیشل کونسل نے کبھی مجھے

صفائی کا موقع نہیں دیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے انصاف کا قتل عام کیا،صدر مملکت نے میرے تین خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا،مجھے ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا،میرے اور اہلخانہ کیخلاف فیفتھ جنریشن وار شروع کی گئی، آصف سعید کھوسہ

نے میرا موقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا،میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قرار دیا،ججز سے غلطی ہو جائے تو نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے،عدالتی حکم آئین اور متعدد قوانین کے خلاف ہے، کسی شخص کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی

فوجداری جرم ہے، وزیر قانون نے اپنے دلائل میں انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 198 کو بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا، سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم تحریری دلائل جمع کراتے رہے،فروغ نسیم نے حلف کی خلاف ورزی کی انہیں فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے،

تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلی ہی ایف بی آر کو کاروائی مکمل کرنے کا کہا گیا، کہا گیا عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی، عمران خان کرکٹر تھے تو ان کا مداح تھا اٹوگراف بھی لیا، عمران خان بھی ایک انسان ہیں، جسٹس عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے

پر دکھ ہوا، جسٹس عظمت سعید آج حکومت کی پسندیدہ شخصیت ہیں، ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے، پاکستان کو باہر سے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا،دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے

میں جو غلطیاں ہیں ان کی نشاندہی کریں،سپریم جوڈیشل کونسل کے بارے میں آپکے وکیل نے دلائل نہیں دیئے تھے،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کے وکیل نے جوڈیشل کونسل والے حصے پر دلائل نہیں

دئیے تھے، سپریم جوڈیشل کونسل والے حصے پر نظرثانی میں دلائل کیسے دے سکتے ہیں،جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا کہ میری درخواست کا ایک حصہ ریفرنس دوسرا جوڈیشل کونسل کے متعلق تھا،عدالت نے ریفرنس کو اپنے فیصلے میں زندہ رکھا ہے،سپریم جوڈیشل کونسل

کے خلاف مجھے سنگین تحفظات ہیں، میرا کیس دوبارہ جوڈیشل کونسل بھجوانے پر اس حوالے سے دلائل دوں گا،دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جن ججز کے آپ نام لے رہے ہیں وہ ریٹائر ہوچکے ہیں، بار بار دو ججز پر الزامات نہ لگائیں،جو بات میں نے کی نہیں وہ

میرے سے منسوب مت کریں، میں نے صرف ایک سوال پوچھا ہے، دوران سماعت جسٹس منظور احمد ملک نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جج صاحب آپ پارٹی نہ بنیں بلکہ ایک وکیل کی طرح اپنے دلائل دیں۔دوران سماعت جسٹس مقبول باقر نے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اپنے کیس پر دلائل دیں آپکی مہربانی ہوگی۔ دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس منیب اختر سے معذرت کر تے ہوئے موقف اپنایا کہ معزز جج صاحبان میری دلیل سے اتفاق کریں یا اختلاف کریں یہ انکی صوابدید ہے،

مجھے اپنے دلائل دینے کا تو حق حاصل ہے،جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ اس وقت درخواست گزار ہیں، میں بنچ کے رکن جج کے طور پر سوال پوچھ رہا ہوں،اس دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سوال پوچھنا جج کی صوابدید ہے،

جسٹس مقبول باقر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ قانونی وجود نہیں رکھتا، شہزاد اکبر پاکستان تحریک انصاف کا رکن ہے،

شہزاد اکبر کو جیل میں ہونا چاہیے، شہزاد اکبر ملک کا بااثر شخص ہے اس لیے اس سے کوئی نہیں پوچھتا، شہزاد اکبر نیب میں آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دار ملازم تھا،شہزاد اکبر کی دولت میں کیسے غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا کوئی پوچھنے والا نہیں، پاکستان میں اس وقت سائے

حکمرانی کر رہے ہیں، ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہم جمہوری دور میں رہ رہے ہیں یا آمریت کا دور چل رہا ہے، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل کیلئے مختلف محکموں سے لوگوں کو اٹھایا گیا، اشفاق احمد کو ایف بی آر سے منتخب کیا گیا۔ عدالت عظمی نے معاملہ پر سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *