ن لیگ کا تحریک انصاف سے جیتنا ۔۔عمران خان کی 2023ء تک ووٹوں کی صورتحال کیا ہو گی ؟کامران خان نے سوالیہ نشان اٹھا دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ عثمان بزدار حکومت کی نالائقیوں کے باوجود ن لیگ اپنی سیاسی گڑھ ڈسکہ سے صرف 19000کے مارجن سے جیتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’خوشگوار حیرت ،موجودہ مہنگائی ، بزدار حکومت کی نالائقیوں کے باوجود ن لیگ

سیاسی گڑھ ڈسکہ کے صاف شفاف الیکشن میں پی ٹی آئی امیدوار نے 90000 ووٹ حاصل کئےہیں جبکہ وہ محض 19000 سے ہارے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ عمران خان 2023 تک پورے ملک میں اپنے ووٹوں کی تعداد میں مزید کمی لاتے ہیں یا 2018 کیفیت برقرار رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ایک مرتبہ پھر ہونے والے ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن )کی سیّدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی کو 19ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دیدی ، مسلم لیگ (ن)کے کارکنوں نے جیت کی خوشی میں جشن منایا ، مٹھائیاں تقسیم کر تے ہوئے ایک دوسرے کو مبارکبادی دی اور اپنی قیادت کے حق میں شدید نعرے بازی کی ،کسی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی انتہائی سخت رہی اور صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک پر امن پولنگ جاری رہی ۔ ہفتہ کو غیر حتمی اور غیر سر کاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 کی نشست مسلم لیگ (ن) کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار نے پاکستان تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی کو شکست دیکر جیت لی ،ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی سیّدہ نوشین افتخار نے ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ لیکر کامیابی ہوئیں،پاکستان تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی نے 92 ہزار 19ووٹ حاصل کیے اور انہیں 19 ہزار 201 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.