’’آئین سے غداری کر کے نہ صرف اس جہاں بلکہ اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی ‘‘

اسلام آباد( آن لائن ) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ محافظین آئین نے ہی آئین کے تحفظ کی قسم توڑی۔ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اسلام میں بنیادی حقوق اور آئین کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ

قائدِاعظم نے کہا کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اسلامی قوانین پر مبنی ہوگا، قائد اعظم نے فرمایا کہ اسلام میں سب برابر ہیں اور عدل وانصاف کا بول بالا ہونا چاہیے، آئین ہر شہری عیسائی، ہندو و دیگر مذاہب کو بھی تحفظ دیتا ہے، ہم نے آئین نہیں سیکھا ،ہم نے تو اس کا اردو میں ترجمہ بھی نہیں کیا، بلکہ ہم نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو قرآن کریم کے ساتھ کرتے ہیں، لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور محافظین آئین نے جو قسم اٹھائی وہ انہوں نے توڑی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی اسکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے، امریکی اسکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمری سے ہی طلباء کو آئین کا معلوم ہو، آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا، ہمارے پاس اس وقت نصف پاکستان ہے کیونکہ آدھا حصہ ہم سے جدا ہو چکا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، جس کی اگلے جہاں میں بھی سزا ملے گی، اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آئین کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ پورے عالم پر اختیار اللّہ کا ہے، اسلام نے مزدوروں کے تحفظ پر خصوصی زور دیا، اسلام میں ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کو اس کا معاوضہ دیا جائے۔#/s#

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *