چیئرمین نیب جاوید اقبال کو مدت ملازمت میں توسیع ملنے کا امکان‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت بھی ختم ہونے جارہی ہے میرے خیال میں ہوسکتا ہے کہ انہیں ملازمت میں توسیع مل جائے ۔ اس حوالے سے غور و فکر جاری ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ اس وقت نیب میں بڑے اہم کیسز چل رہے ہیں شاید موجود چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جائے ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے وہ ایک ہی نقطے پر جمع ہوئی ہیں تاکہ وزیراعظم عمران خان کو ہٹایا جا سکے لیکن اس وقت پی ڈی ایم بھی بڑے بڑے برج گرتے جارہے ہیں ، پیپلز پارٹی سسٹم کا حصہ بن چکی ہے جبکہ اس کا جھکائو بھی حکومت کی طرف ہے ۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کر رہی ہے،نیب ملک کی سیاست کو تباہ کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے،نیب کو حکومت کی کرپشن نظر نہیں آتی ،روز ویلٹ ہوٹل پاکستان کی ملکیت ہے ،ملک کے اثاثے پر حکومت وضاحت کردے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آج پھر سے احتساب عدالت میں ایل این جی کا معاملہ چل رہا ہے ،نہ کیس ہے اور نہ کیس میں کوئی حقیقت ہے۔ انہوںنے کہاکہ نیب ملک کی سیاست کو تباہ کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے،حکومت چیرمین نیب کو بلیک میل کر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ احتساب کا ادارہ خود قابل احتساب ہے، نیب کو حکومت کی کرپشن نظر نہیں آتی ۔ انہوںنے کہاکہ روز ہوٹل کا معاملہ حکومت کے خلاف نیا ابھر رہا ہے، حکومت روز ہوٹل کے معاملے پر وضاحت کرے کہ آخر یہ ہے کیا؟۔ انہوںنے کہاکہ روز ویلٹ ہوٹل پاکستان کی ملکیت ہے اور اس کی حقیقت عوام کو بتانا ضروری ہے۔ انہوںنے کہاکہ حکومت چینی اور آٹے امپورٹ کرنے کا سکینڈل عوام کے سامنے نہ رکھ سکی۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے اثاثے پر ہی حکومت کوئی عوام کے سامنے وضاحت کردے۔ انہوںنے کہاکہ نیب کی سرکس چلتی رہے گی اور یہ بہت پرانی ہے، نیب کا مقصد ہی سیاستدانوں کو ٹارگٹ کرنا ہے، یا ملک چلا لیں یا پھر نیب کو چلا لیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کے پاس چیئرمین نیب کی ویڈیوز ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایک خاتون نے وزیراعظم پورٹل میں شکایت کی تھی کہ چیئرمین نیب نے کوئی نازیبا حرکتیں کیں، یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی سامنے آیا ہے، خاتون نے کہا ہے کہ مجھ سے وعدے کیے گئے تھے جو پورے نہیں ہو سکے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *