(ن) لیگ کا سینیٹ میں الگ بیٹھنے کا فیصلہ

لاڑکانہ(مانیٹرنگ ڈیسک /پی این آئی)(ن) لیگ کا ایوان بالا میں پیپلز پارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ نہ بیٹھنے کا فیصلہ ۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے خبر جاری کی ہے کہ مسلم لیگ ن اوراتحادی جماعتوں نے آزاد گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اوراسی سلسلے میں ن لیگ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے وفد نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد نے چیئرمین سینیٹ کو27ارکان کا آزاد گروپ بنانے کی درخواست د ی ہے۔ لیگی رہنما مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، سینیٹ میں ہمارا اپنا آزاد گروپ ہوگا۔دوسری جانب اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی دوبڑی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)اور پیپلزپارٹی لاڑکانہ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئیں،جے یوآئی نے حکومتہ جماعت پی ٹی آئی سے مل کرلاڑکانہ میں پیپلزپارٹی کے خلاف نیا عوامی اتحاد تشکیل دے دیا۔رپورٹ کے مطابق جے یوآئی نے لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی مخالف اتحادبنالیا، اس حوالے سے جے یو آئی نے پاکستان تحریک انصاف، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مقامی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور ضلع میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کے مطابق جے یوآئی نے لاڑکانہ میں پی پی کیخلاف بنائے جانے والے عوامی اتحاد میں پی ٹی آئی اورجی ڈی اے کے علاوہ قوم پرست تنظیموں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی ہے۔جے یوآئی لاڑکانہ کی قیادت عوامی اتحاد میں شامل جماعتوں کے ساتھ مل کر جلد پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف مہم شروع کرے گی۔لاڑکانہ عوامی اتحاد میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما اللہ بخش انڑ اور امیربخش بھٹو جبکہ جی ڈی اے کے رہنما صفدر عباسی اور معظم عباسی شامل ہیں۔اس حوالے سے لاڑکانہ عوامی اتحادکا اجلاس بھی گزشتہ روز ہوا جس میں پیپلزپارٹی مخالف اتحاد کا دائرہ کار ڈویژن کی سطح پر پھیلانے پر اتفاق کیا گیا۔واضح رہے کہ جے یو آئی کے پاس حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی صدارت ہے، مولانا فضل الرحمان اس اتحاد کے سربراہ ہیں۔پی ڈی ایم میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔‎

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *